زمین کو مستقبل
میں خلائی مخلوق
کی آمد سے
خبردار کیا گیا
دستاویز کے مطابق 11 جنوری 1955 کو کوکس سے ایف بی آئی کی گاڑی میں پوچھ گچھ کی گئی۔
اس دوران اس نے بتایا کہ وہ اور اس کا ساتھی جان ہوفمین واشنگٹن جا کر اپنی معلومات پینٹاگون کو دینا چاہتے تھے اور فضائیہ کی انٹیلی جنس سے کسی شخصیت سے ملاقات کے خواہش مند تھے۔
کوکس ڈیٹرائٹ فلائنگ ساسر کلب کی اہم شخصیات میں شامل تھا، اور اس کا نام UFOs اور خلائی مخلوق سے متعلق متعدد سرکاری دستاویزات میں بارہا سامنے آیا۔
انٹرویو کے دوران کوکس نے جان فرائی نامی ایک شخص کا بھی ذکر کیا، جو نیو میکسیکو کے سینڈیا ایئر بیس میں ٹیکنیشن تھا۔
اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک اڑن طشتری کو صرف 30 منٹ میں وہاں سے نیویارک لے گیا تھا۔
کوکس نے مزید کہا کہ گروپ کے ارکان کو خلائی مخلوق کی جانب سے متعدد پیغامات موصول ہوئے۔
ایف بی آئی کی یادداشت میں درج تھا:
اس وقت زمین سے رابطے کا مقصد صرف لوگوں کو خلائی مخلوق کی آمد کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا معلوم ہوتا ہے۔
موصولہ پیغامات کے مطابق زمین کے علاوہ تمام سیاروں پر قبضہ ہوچکا ہے اور خلائی مخلوق زمین کے انسانوں کو کائناتی وجود کی کمتر ترین شکل سمجھتی ہے۔
یادداشت میں جان ہوفمین، جو دوسری جنگ عظیم کے دوران فضائیہ کا سابق فوجی تھا، کے بارے میں کہا گیا کہ وہ سائنسی حقیقت کی حدود عبور کرکے ممکنہ سائنس فکشن کی دنیا میں داخل ہوچکا ہے۔
ایف بی آئی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کوکس کے بیانات کافی حد تک ڈوروتھی مارٹن کی تحریروں سے ملتے جلتے تھے۔
ڈوروتھی مارٹن الینوائے کی ایک گھریلو خاتون تھی، جس نے 1954 میں یہ دعویٰ کرکے شہرت حاصل کی تھی کہ اسے ’گارڈینز‘ نامی خلائی مخلوق سے ٹیلی پیتھی کے ذریعے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔
مارٹن نے UFOs پر یقین رکھنے والوں کا ایک گروپ بنایا تھا، جس نے خبردار کیا تھا کہ 21 دسمبر 1954 کو تباہ کن سیلاب زمین کے بڑے حصے کو تباہ کردیں گے لیکن اس کے پیروکاروں کو تباہی سے پہلے اڑن طشتریوں کے ذریعے بچا لیا جائے گا۔
اس پیشگوئی نے اس وقت امریکہ میں زبردست توجہ حاصل کی تھی۔
اس کے پیروکاروں نے اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں، جائیدادیں ترک کردیں اور ڈوروتھی مارٹن کے گھر میں خلائی جہاز کے انتظار میں جمع ہوگئے تاہم جب پیشگوئی پوری نہ ہوئی تو مارٹن نے بعد میں دعویٰ کیا کہ اسے ایک اور پیغام ملا ہے، جس کے مطابق ان کے گروپ کے ایمان کی وجہ سے زمین تباہی سے بچ گئی۔