امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اُڑن طشتریوں اور نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق خفیہ فائلوں کی پہلی قسط جاری کر دی ہے۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پینٹاگون کی خفیہ فائلوں میں کئی دہائیوں قبل دیکھی گئی ان پُراسرار مخلوقات کا تذکرہ موجود ہے جن کا قد 3 سے 4 فٹ کے درمیان بتایا گیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی 19 اکتوبر 1966 کی ایک اندرونی یادداشت کے مطابق سال 1965 میں اُڑن طشتریوں کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق خلائی لباس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے چھوٹے قد کے عملے کو زمین پر اترتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
اس رپورٹ میں مصنف فرینک ایڈورڈز کی کتاب ’فلائنگ ساسرز ۔سیریس بزنسُ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
The Department of War celebrates the launch of https://t.co/odnX2WDaGO as a major milestone in government transparency. In just 12 hours, the site has received 340 MILLION hits from Americans and truth seekers worldwide seeking unfiltered UAP information.
— Sean Parnell (@SeanParnellASW) May 9, 2026
This overwhelming…
اس کتاب نے عوامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ خلائی جہاز زمین پر جاری انسانی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق دستاویزات میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فضائیہ نے حقائق جان بوجھ کر چھپائے۔
حکام کو خدشہ تھا کہ اگر سچائی منظر عام پر آگئی تو عوام میں شدید خوف و ہراس اور بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلنے کا خطرہ ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ کم از کم 3 مواقع پر ان پُراسرار اجسام کا ملبہ بھی برآمد کیا گیا۔
اس ملبے میں میگنیشیم کے مرکبات، خالص میگنیشیم اور ایک انتہائی سخت نامعلوم دھات شامل تھی جس پر مائیکرو میٹیورائٹ کے ٹکراؤ کے واضح نشانات پائے گئے تھے۔
پینٹاگون نے 160 سے زائد ایسی فائلز جاری کی ہیں جو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔
اب امریکی عوام ان دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن میں نامعلوم اجسام کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر اور مختلف سرکاری ایجنسیوں کے پرانے ریکارڈ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے فروری میں ان پیچیدہ اور اہم فائلوں کو عام کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ ان دستاویزات کی پہلی قسط اب عوامی مطالعے اور تحقیق کے لیے ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
اگرچہ امریکی حکام نے تاحال خلائی مخلوق کی موجودگی کے ٹھوس ثبوتوں کی تصدیق نہیں کی، لیکن حساس فوجی تنصیبات کے قریب ان اجسام کی مسلسل موجودگی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ معاملہ اب بھی عالمی سطح پر بحث اور قیاس آرائیوں کا مرکز ہے۔