اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے مستقبل پر بدستور غیر یقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے تاہم اس اثنا میں ایران کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اسی طرح عراقچی نے پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ بھی رابطہ کرکے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے جنہوں نے مذاکرات کے پہلے دور کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے اسحاق ڈار کو اپنے ایرانی ہم منصب کی جانب سے فون کال موصول ہوئی، جس میں دونوں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی وزیر نے مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور رابطے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
غیر یقینی صورتحال
اسی دوران ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات کے دوسرے دور پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور اسلام آباد ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور پیش رفت کے امکانات پر پُرامید ہے۔
گزشتہ روز پاکستانی سفارتکار نے عندیہ دیا تھا کہ فریقین کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اکٹھا کرنے کی کوششوں میں پیش رفت انتہائی سست ہے۔
انہوں نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل حقیقی جمود کا شکار ہے۔
ان کے مطابق تہران نے اسلام آباد کو آگاہ کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں مذاکرات میں شرکت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں جبکہ واشنگٹن اس پابندی کو برقرار رکھنے پر قائم ہے۔
ہرمز کھولنے کی شرط
حالیہ عرصے میں تہران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم کیا جائے، جس کے بدلے میں آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا۔
ایران کے مطابق محاصرے کا تسلسل اس جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اپریل کو دو ہفتے مکمل ہونے کے بعد بڑھایا تھا۔
تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی میں توسیع غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ہے اور انہوں نے متعدد بار دوبارہ جنگ شروع ہونے کا عندیہ بھی دیا۔
DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 received a call today from Foreign Minister of Iran H.E. Abbas Araghchi @Araghchi.
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 24, 2026
Both sides exchanged views on regional developments, the ceasefire, and ongoing diplomatic efforts being pursued by Islamabad in the context of… pic.twitter.com/eJ1fuVTVKE
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد نے اس ہفتے کے آغاز میں امریکی اور ایرانی وفود کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دی تھیں، مگر صورتحال اس وقت یکسر بدل گئی جب تہران نے گزشتہ بدھ کو وفد نہ بھیجنے کی تصدیق کی۔
اس کے بعد سے پاکستانی حکام ایرانی قیادت کو مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے اور امریکی فریق تک خدشات پہنچانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم دونوں جانب سے سخت مؤقف اور باہمی دھمکیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔