عالمی منظرنامے میں امریکہ اور إيران کے درمیان کشیدگی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جنگ اور مذاکرات دونوں امکانات بیک وقت موجود ہیں۔
ایسے میں باكستان ایک فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جو اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، ایسا تنازع جسے عسکری طاقت بھی اب تک حل نہیں کر سکی۔
جنگ بندی میں توسیع کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ کے لیے کوئی مقررہ ڈیڈ لائن نہیں اور ان کے نزدیک ایران پر عائد بحری محاصرہ فضائی حملوں سے زیادہ مؤثر دباؤ کا ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیں
وائٹ ہاؤس نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرنا ہوں گے جبکہ بحری محاصرہ جنگ بندی کے باوجود جاری رہے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشكيان نے مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا مگر ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ محاصرہ، دھمکیاں اور معاہدوں کی خلاف ورزی حقیقی پیش رفت میں رکاوٹ ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔
میدانی کشیدگی اور عسکری اشارے
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تاہم ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی و اسرائیلی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہیں۔
میدان میں کشیدگی برقرار ہے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دو تجارتی جہازوں کو تحویل میں لیا اور ایک تیسرے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
اس کے برعکس رائٹرز کے مطابق امریکی افواج نے 3 ایرانی آئل ٹینکروں کا رخ موڑ دیا، جبکہ امریکی فوج نے متعدد جہازوں کو راستہ بدلنے کا حکم دیا۔
پاکستان کا سفارتی کردار
پاکستان اس بحران میں کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے جنگ بندی میں توسیع کو کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا اور سفارتی چینلز جاری رکھنے پر زور دیا۔
اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، اہم شاہراہیں بند اور اداروں کی سرگرمیاں محدود کی گئی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سنجیدہ اور تیار ہے۔
پسِ پردہ پاکستان مختلف ممالک سے بھی رابطے کر رہا ہے تاکہ ایران کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔
وقت بطور ہتھیار
اس بحران میں ’وقت‘ فیصلہ کن عنصر بن چکا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق وہ طویل محاصرے کے عادی ہیں اور متبادل راستوں کے ذریعے دباؤ کو کم کر سکتے ہیں، جبکہ بعض ایرانی حلقوں نے مزید دباؤ بڑھانے کے لیے باب المندب جیسے اہم راستوں کو بند کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
اس کے برعکس واشنگٹن کا خیال ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے۔
امریکی قیادت سمجھتی ہے کہ معاشی دباؤ ایران کو زیادہ متاثر کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر محاصرہ مزید سخت یا محدود عسکری کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
جنگ یا مذاکرات؟
ماہرین کے مطابق جنگ بندی میں توسیع بظاہر مذاکرات کو موقع دینے کا اشارہ ہے مگر تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
امریکی ماہرین کے مطابق امریکہ پر فوری دباؤ نہیں جبکہ ایران پر اقتصادی اثرات زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو آبنائے ہرمز ایران کے لیے بھی سنگین معاشی خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ طویل محاصرہ اس کی درآمدات اور معیشت کو شدید متاثر کرے گا۔
اسرائیلی زاویہ
اسرائيل میں صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں کئی ماہرین کے نزدیک جنگ کا دوبارہ آغاز تقریباً یقینی ہے۔
اسرائیلی قیادت کے لیے جنگ داخلی سیاسی دباؤ کم کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، خصوصاً وزیر اعظم نتن یاہو کے لیے۔
اہم رکاوٹیں
مذاکرات کے راستے میں کئی بنیادی مسائل حائل ہیں:
- آبنائے ہرمز: امریکہ غیر مشروط کھلی گزرگاہ چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے محاصرہ ختم کرنے سے مشروط کرتا ہے۔
- جوہری پروگرام: امریکہ طویل مدت تک افزودگی روکنے کا مطالبہ کرتا ہے، ایران محدود مدت کے لیے معطلی پر تیار ہے۔
- پابندیاں اور اثاثے: ایران فوری پابندیوں کے خاتمے اور اربوں ڈالر کی واپسی چاہتا ہے، جبکہ امریکہ مرحلہ وار حل چاہتا ہے۔
- میدانی کشیدگی: جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اعتماد کو متاثر کر رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ توازن کی عکاس ہے جہاں نہ مکمل جنگ ہے نہ مکمل امن۔ وقت، دباؤ اور سفارتکاری تینوں عناصر اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔
پاکستان کی ثالثی کوششیں امید کی کرن ضرور ہیں، مگر حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ کون سا فریق پہلے لچک دکھاتا ہے کیونکہ فی الحال سب فریق دباؤ میں ہیں، مگر کوئی بھی کمزوری ظاہر کرنے کو تیار نہیں۔