ہفتہ28 فروری 2026 کی صبح ، جنوبی ایران کے شہر مینا ب میں واقع ’شجرۂ طیبہ گرلز اسکول‘پر ایک امریکی ٹوماہاک میزائل آ گرا۔
مزید پڑھیں
اس وحشیانہ حملے کے نتیجے میں 170 سے زائد بچیاں، اساتذہ اور والدین ملبے تلے دب گئے۔ وہ ماں باپ جو اپنی بیٹیوں کو لینے آئے تھے، سب کے سب طالبات سمیت اسی جگہ دفن ہو گئے۔
اس شہر کا نام کچھ گھنٹے خبروں میں رہا، پھر ایک بھاری بھرکم جنگ کے شور میں غرق ہو گیا۔ مگر جو بات لوگ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ یہ ’میناب‘ کوئی معمولی جگہ نہیں ، یہ میری پہلی پہچان ہے، میرا پہلا نام
ہے، اس سے پہلے میں ایک جزیرہ تھا اور پھر آبنائے بن گیا۔
’میں ہرمز ہوں‘
آج آپ مجھے ایک ایسے آبنائے کے طور پر جانتے ہیں جس کے دہانے پر شاید تیسری عالمی جنگ کا فیصلہ ہونا ہو۔ لیکن سچ بتاؤں ؟ آپ کو اصل پریشانی یہ نہیں ہے بلکہ آپ کو یہ فکر ہے کہ جب بھی میں بند ہوتا ہوں تو آپ کی گاڑی کا پیٹرول مہنگا ہو جاتا ہے اور قریبی دکان میں روزمرہ اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ میری بندش دنیا کی توانائی اور خوراک کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے، یہ حقیقت ہے، لیکن آج میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ٹھیک طرح جانیں۔
میں ایک ایسی شناخت ہوں جو تین بار منتقل ہوئی ۔ خشکی پر ایک بستی سے، پانی میں ایک جزیرے تک اور پھر ایک ایسی آبی پٹی تک جو دنیا کو روزی دیتی ہے اور دنیا کو چلاتی بھی ہے۔
میری صورت بدلتی رہی، مگر میرا کام وہی رہا ۔ میں وہ نقطہ ہوں جسے دنیا نظرانداز نہیں کر سکتی، نہ تجارت میں، نہ سیاست میں۔
تو آئیے! میں آپ کو اپنی کہانی شروع سے سناتا ہوں۔
جب میں خشکی پر بستا تھا
تاریخ کے لکھے اوراق میں میرا پہلا ذکر نیارخوس کی رپورٹ میں ملتا ہے ۔ وہ بحری کمانڈر جسے سکندرِ اعظم نے 325 قبل مسیح میں سمندری راستے سے بابل بھیجا تھا۔
اُس کا بحری بیڑا دریائے مینا ب کے دہانے پر ایک بستی میں رکا، جس کا نام تھا ’ہرموزیہ‘۔ اس نام میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہی مینا ب، جس کے اسکول پر امریکی اسرائیلی حملے کی صبح میزائل برسا، میرا سب سے پرانا نام ہے۔
پھر بطلیموس کے جغرافیے میں میرا ذکر آتا ہے، جہاں وہ مجھے ’کرمانیہ‘ کے ساحل پر واقع ایک شہر بتاتا ہے ۔ جدید بندر عباس سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں۔
میں کرمان کے باشندوں کا وہ ہاتھ تھا جو ایشیا اور عمان سے آنے والی سمندری تجارت تک پہنچتا تھا اور نیل کی تجارت کا مرکز تھا ۔ وہ نیلا رنگ جو مشرق کے کپڑے کو دنیا کی زیب بناتا تھا۔
اسلام میرے دروازے پر جلد پہنچا۔ حضرت عمر بن خطابؓ کے دور میں جب بصرہ سے فتوحات کی لہریں کرمان کی طرف بڑھیں تو انہوں نے مجھے بھی اپنی آغوش میں لے لیا۔
ابن جریر طبری (متوفی 310ھ/923ء) نے لکھا ہے کہ امیر المؤمنین نے ابو موسیٰ اشعری کو لکھا کہ سہل بن عدی خزرجی کو ان علاقوں کی فتح کا کمانڈر مقرر کریں۔
بعض روایات کے مطابق یہ فتح راشد بن عمرو الجدیدی (متوفی 50ھ/670ء) کے ہاتھوں ہوئی۔ اس وقت میں کوئی الگ سیاسی مرکز نہیں تھا، بلکہ اس وسیع جغرافیے کا حصہ تھا، جس نے اسلام کی آمد کا خیرمقدم کیا اور ساسانی سلطنت کو الوداع کہا۔
دسویں صدی عیسوی میں عمانیوں نے میرے ساحل کا رخ کیا اور میرے ساتھ سامنے والے ساحلوں کے درمیان پل بنائے جن کی اہمیت آگے چل کر آپ سمجھیں گے۔
گیارہویں صدی میں میری سیاسی خودمختاری کا آغاز ہوا جب عمان سے آئے ایک عرب شخص محمد بن درمکہ نے میرے ساحل پر قدم رکھا اور میرے لیے ایک الگ سیاسی وجود بنایا۔
سلجوقی انتظام میں، میں نے تجارت کی ایک پرسکون صدی گزاری اور پھر یہاں سے میرے اوج کا دور شروع ہوا۔
تاجر محمود قلہاتی پہلا شخص تھا جس نے مجھے حقیقی طاقت کی طرف دھکیلا۔ 1242ء میں حاکم کی بیٹی سے سیاسی شادی سے وہ اقتدار میں آیا۔ بادشاہوں اور تاجروں کے درمیان رشتوں کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔
اُس نے عمان کے ساتھ مل کر میرا بحری بیڑا مضبوط کیا، سلغریوں (فارس کے اتابکوں) کے ساتھ اتحاد کیا اور خلیج کی تجارتی شاہراہوں پر قابض جزیرے کیش کو شکست دی۔ میری بندرگاہیں مستحکم کیں، بازار اور گودام بنائے۔
اس سب کے نتیجے میں، میں ایک عام شہر سے ایک بحری تجارتی طاقت بن گیا۔
اِس کے بعد آئے بہا الدین عیاض ۔ محمود کے ترک غلام، جنہوں نے اقتدار سنبھالا۔ منگولوں کا خطرہ خشکی پر بڑھتا دیکھ کر انہوں نے 1300ء میں مجھے مکمل طور پر جزیرہ جرون پر منتقل کر دیا ، جو انہوں نے خریدا تھا۔
اب وہ جزیرہ ’ہرمزِ جدید‘ بن گیا اور میں، خشکی والا ’ہرمزِ قدیم‘ صرف یادوں میں رہ گیا۔
پھر قطب الدین تہمتن دوم نے خلیج پر میری بالادستی کو پختہ کیا، بحرین اور احسا تک پھیلایا ۔ جہاں سے موتی نکلتے تھے اور میرے راستے سے گزر کر چین اور یورپ کی حسیناؤں کا زیور بنتے تھے۔
مسلمان سیاحوں نے مجھے تین مختلف ادوار میں دیکھا اور لکھا۔ ان کی تحریروں میں میرا خشکی سے سمندر تک کا سفر ثبت ہو گیا۔ ادریسی (متوفی 560ھ/1166ء) نے مجھے خشکی پر پایا ۔
بھری آبادی والا گرم شہر، کھجوروں سے بھرا، جس کی اینٹوں کی دیواریں دور دور تک مشہور تھیں، دریا میں کشتیاں رکتی تھیں اور بازار تک پہنچتی تھیں۔
یاقوت حموی (متوفی 626ھ/1229ء) نے مجھے 70 سال بعد لکھا تو میں سمندر میں منتقل ہو چکا تھا ۔ انہوں نے لکھا کہ میں سمندر میں ایک شہر ہوں اور ہندوستان کا سامان کرمان، سیستان اور خراسان تک مجھ سے جاتا ہے۔
ابوالفداء (متوفی 732ھ/1331ء) نے لکھا کہ تاتاریوں کی یلغار میں خشکی والا میں تباہ ہو گیا اور لوگ قریبی جزیرے جرون (یعنی جدید ہرمز) منتقل ہو گئے۔
پھر ابن بطوطہ (متوفی1377ء) آئے اور تب تک دو ہرمز مستحکم ہو چکے تھے ۔ ایک خشکی پر، ایک سمندر میں۔ جرون پر میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے ایک چھوٹا اور بنجر، مگر بھرپور بازاروں والا شہر پایا۔
انہوں نے مجھے ’مرسیٰ الہند والسند‘کہا ۔ یعنی ہند اور سندھ کی بندرگاہ۔
میں تمام دولت کے باوجود اپنے آپ میں غریب ہوں۔ جزیرہ خود کچھ نہیں اُگاتا۔ مچھلیاں کھانا ہے، پانی قریبی جزیروں سے آتا ہے۔ میری زندگی کا دارومدار اس پر ہے جو مجھ سے گزرتا ہے، نہ اس پر جو مجھ میں ٹھہرتا ہے۔
توران شاہِ دوم کے دور میں، میں اپنی عظمت کی بلندی پر تھا ۔ چین، ہندوستان اور مشرقی افریقہ سے تاجر میرے پاس آتے تھے۔
سیاح عبدالرزاق سمرقندی نے مجھے ’بے مثال بندرگاہ‘کہا، جہاں مختلف مذاہب اور نسلوں کے لوگ ایک محفوظ ماحول میں رہتے تھے۔
میں ایک ’باہم ملنے کا عالمی مقام‘بن چکا تھا۔ اس دور میں ایک مثل مشہور ہو گئی: ’اگر دنیا انگوٹھی ہے، تو ہرمز اس کا نگینہ ہے‘۔
خلیج پر میری گرفت کا مطلب تھا اس کی بنیادی دولت پر قبضہ ۔ موتی اور گھوڑے۔ غوطہ خور، جن میں اکثریت عرب قبائل کی تھی، قرض کے بوجھ تلے دبے موتی نکالتے تھے ۔
تاجروں کے قرض جو سفر کا خرچ دیتے تھے، حاکم کا حصہ الگ، باقی قرض ادا کرنے میں جاتا تھا۔ یہ ایک کڑا نظام تھا جو صدیوں چلا، اور میں وہ مرکزی منڈی تھا جہاں سے یہ موتی ہندوستان، چین اور یورپ جاتے تھے۔
اسی طرح گھوڑے بھی میری بندرگاہوں سے برصغیر جاتے ۔ سمندری سفر مشکل تھا، بندرگاہیں بدبودار ہو جاتی تھیں، مگر منافع اور محصول میری تسلی کے لیے کافی تھے۔
میں نے اپنی خوشحالی کو ہوشیاری سے سنبھالا۔ امن بڑی طاقتوں سے خریدا اور اس کی قیمت ادا کی۔
ایلخانیوں (ہلاکو خان کی اولاد، جو ایران، عراق اور قفقاز پر حکمران تھے) کو جزیہ دیا، پھر تیمورلنگ اور اس کی اولاد کو ، مگر اپنی عملی خودمختاری نہ کھوئی۔ میں نے ان ممالک کی محکومی نہیں مانی، بلکہ ان کے سائے میں رہنا سیکھا۔
صلیبی جو تاجر کا بھیس بدل کر آیا
ایک لمحے کے لیے آج کی طرف آتے ہیں، پھر واپس ماضی میں جائیں گے ۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ، جس نے میرے بالکل سامنے بیٹھ کر ایران کے خلاف یہ جنگ چلائی ، اس کے بازو پر دو نقش تھے: عربی میں لفظ ’کافر‘، اور لاطینی جملہ ’Deus Vult‘ یعنی ’خدا کی مرضی‘۔
وہ نعرہ جو گیارہویں صدی کی پہلی صلیبی جنگ میں بیت المقدس پر حملے کے وقت بلند ہوا تھا۔ اس کے سینے پر صلیبِ قدس ہے۔ اپنی کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ ’اسلام کبھی امن کا دین نہیں تھا اور نہ ہے‘۔
یہ جنگ بھڑکانے والے بنیامین نیتن یاہو ، جنہیں عالمی عدالتِ انصاف جنگی مجرم قرار دے چکی ہے ، نے غزہ پر جنگ کے آغاز میں عمالیقیوں کی تباہی کی توراتی آیات پڑھیں اور ایران کے خلاف جنگ سے پہلے بھی یہی دہرایا۔
ان کے مہمان امریکی سفیر مائیک ہکابی نے انہیں ایک ’توراتی توسیعی سند‘ دی جو 4 ممالک تک ریاست کی حدود بڑھانے کا جواز پیش کرتی ہے ۔ 4 ہزار سال پرانے وعدے پر مبنی۔
یہ سب دیکھتے ہوئے میرا تاریخی ذہن فوراً 5 صدیاں پیچھے چلا گیا۔
1507ء میں پرتگالی بیڑا میرے پاس آیا اور یہ محض تجارتی سفر نہیں تھا، یہ شروع سے ایک مسیحائی سیاسی منصوبہ تھا۔
پرتگالی بادشاہ مانویل اول نے واسکو ڈے گاما کی مہم (1497-1498ء) کی کامیابی کے بعد اعلان کیا کہ جن قوموں تک وہ پہنچے ہیں وہ ’ایمان میں پکی نہیں‘ اور انہیں دینی طور پر مضبوط کرنا ’مسلمانوں کی تباہی‘ کا راستہ کھول سکتا ہے۔
دربار کے مؤرخ جواؤ دی باروش (متوفی 1570ء) نے ڈے گاما کی مہم کو ایک دینی چیلنج کے جواب کے طور پر بیان کیا ہے۔
الفونسو دی البوکرک ،وہ کمانڈر جس نے مجھ پر حملہ کیا ، ان کے بارے میں اُس دور کے مؤرخین لکھتے ہیں کہ ان کا عقیدہ تین چیزوں پر تھا: اسلام کے خلاف لڑنا، عیسائیت پھیلانا اور مسالوں کی تجارت پر قبضہ کرنا۔
ہندوستانی مؤرخ سنجے سبرامنیم ، جو ایشیا میں پرتگالی تجربے کے سب سے بڑے مؤرخ مانے جاتے ہیں ، نے بتایا ہے کہ عیسائیت پھیلانا اور تجارت کرنا الگ نہیں تھا بلکہ یہ دونوں محرک آپس میں جڑے ہوئے تھے۔
مثلاً پرنس انفینٹ ڈوم ہنریک (1394-1460ء) جسے عربی میں ’ہنری دی نیویگیٹر‘ بھی کہتے تھے، ایج آف ایکسپلوریشن (عہدِ جغرافیائی دریافت) کا علمبردار تھا۔ وہ بیک وقت متعصب راہب اور چینی غلاموں کا تاجر تھا۔
1507ء میں پرتگالیوں نے میرے بحری بیڑے کو تباہ کیا اور میرے حاکم کو اپنا وجود قبول کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے قلعہ بنایا، محصول لگایا اور تجارت پر قبضہ کر لیا ۔
اس کے بعد کانپتے ہاتھوں کے ساتھ مقامی نظام بدستور چلتا رہا۔ صرف عسکری اور تجارتی کنٹرول اُن کے ہاتھ میں آ گیاتھا، مگر ان کی برتری زیادہ دیر نہیں چلی۔
اندرونی جھگڑوں، خاص طور پر مال اور لوٹ کے حصے پر اختلافات نے انہیں کمزور کردیا۔ میری سخت فطرت انہیں راس نہ آئی۔ میرے وزیر خواجہ عطار نے ان کے اختلافات کا فائدہ اٹھایا اور معاہدے کو آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ بالآخر البوکرک کو عارضی پسپائی اختیار کرنی پڑی۔
1515ء میں وہ 27 جہازوں، 1500 پرتگالیوں اور 700 ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ واپس آیا۔ اس نے میرے نئے وزیر رئیس احمد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور قلعہ سیدہ مریم بنوایا جس کے کھنڈر آج بھی میرے شمالی ساحل پر موجود ہیں۔
آج کے صلیبی کو پرتگالی صلیبی سے جو وراثت ملی ہے وہ سینے پر صلیب نہیں، نہ بخشش کی پرچیاں ، بلکہ جنگوں کی منطق ملی ہے۔ یعنی ’ہم‘ جو مطلق حق رکھتے ہیں اور ’وہ‘ جنہیں فنا ہو جانا چاہیے یا بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔
وہی زبان جو میں آج امریکی و اسرائیلی بیان بازی میں سنتا ہوں، پہلے بھی پرتگالی لہجے میں سنی تھی۔
کرّاکوں کی جگہ B-2 بمبار، صلیب کی جگہ وزیر کے بازو پر وشم (ٹیٹو)، روم کے پوپ کی جگہ واشنگٹن کا انجیلی پادری ، لیکن منطق آج بھی وہی ہے اور میں، جس نے 120 سال سے زیادہ یہ تسلط برداشت کیا، جانتا ہوں کہ یہ منطق مزاحمت قبول کرتی ہے اور شکست کھاتی ہے ، چاہے اس کے ماننے والے کتنے ہی طاقتور دکھائی دیں۔
پرتگالی ماڈل ہولندی (ڈچ) اور برطانوی سے مختلف تھا ۔ یہ ایک شاہی خاندان کا منصوبہ تھا، نہ کہ آزاد تجارتی کمپنیوں کا۔
البوکرک کا خیال تھا کہ سارے سمندر پر قبضہ ممکن نہیں، مگر تین اہم گزرگاہوں کو کنٹرول کر لو تو بحرِ ہند کی پوری تجارت تمہارے ہاتھ میں ہے: گوا ہندوستان میں، ملاکا ملائیشیائی جزیرہ نما میں اور آپ کے ہم کلام ہرمز۔
میں نے سوا صدی تاجِ لشبونہ کے نیچے گزاری۔ پرتگالیوں نے براہِ راست حکومت نہیں کی بلکہ مقامی حکمرانوں کو ماتحت رکھا، جزیہ اور محصول وصول کیے اور تجارت پر قبضہ رکھا۔
ان کی موجودگی بھاری تھی ۔ بندرگاہیں توپوں سے اُڑائیں، مال لوٹا، مقامی حکمرانوں کو جلاوطن کیا اور کچھ کو قید کیا، مگر انہوں نے میرا سماجی تانا بانا نہیں بدلا ۔
مسلمان، ہندو، یہودی اور عیسائی، یہاں سب اکٹھے رہتے رہے، ہندوستان، یورپ اور قفقاز کے تاجر آتے رہے۔ یہ تنوع میری تجارتی فطرت کا نتیجہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ میرا کھلا پن دولت اور تجارت کو کھینچتا ہے۔
ایران میں ابھرتی ہوئی طاقت صفوی پرتگالی بحریہ سے براہِ راست ٹکر نہیں لے سکتی تھی۔ اس لیے شاہ اسماعیل (1501-1524ء) نے ان کی موجودگی قبول کی، کیونکہ بحری کمزوری اور عثمانیوں کو توازن میں رکھنے کی ضرورت اسے یہی کہتی تھی۔
صفوی خشکی سے میرا انتظام سنبھالتے رہے، پرتگالی سمندر سے مجھ پر قابض رہے اور عثمانی عنصر ان دونوں کو قابو میں رکھتے ہوئے باہمی تعاون کی کم سے کم سطح کی طرف دھکیلتا رہا۔
جزیرے کا زوال اور دو صدیوں کی خانہ بدوشی
جزیرے کی تصویر بدلنے میں صفوی اکیلے نہیں تھے ۔ نئے یورپی حریف آ گئے تھے جو بالکل مختلف ماڈل لائے۔ یعنی انگریز اور ہولندی (ڈچ)۔
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی ایک منظم تجارتی ادارہ تھی جس نے نجی سرمایے اور تنظیم کو ملا کر ایک ایسا ڈھانچہ بنایا جو بادشاہ کی مہم سے زیادہ پائیدار اور لچکدار تھا۔ پھر پرتگالی آہستہ آہستہ نئے آنے والوں کے مقابلے میں سست اور ناکارہ ہوتے گئے۔
اس ماڈل نے مشرق میں یورپی پھیلاؤ کی نئی تعریف لکھی۔ پہلے بادشاہ تاجر کے بھیس میں چھپا ہوتا تھا، اب تاجر کو بادشاہ کا وسیلہ مل گیا۔ بازاروں پر کنٹرول، تجارتی راستوں پر اثر اور مقامی قوتوں سے مفادات کا جال۔
1622ء میں، میں خشکی کے اپنے رشتوں کی طرف واپس پلٹا ۔ سوا صدی بعد۔ شاہ عباس اول نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور مشہور کمانڈر امام قلی خان کے ساتھ مل کر 10 ہفتے کے محاصرے کے بعد پرتگالیوں کو میرے جزیرے سے نکال دیا۔
پرتگالی قلعہ آج بھی میرے شمالی ساحل پر موجود ہے اور جس دن یہ ہوا ، اردیبہشت (اسلامی کیلنڈر کے دوسرے مہینے) کی دسویں ، یعنی 30 اپریل ۔ آج ایران میں ’یومِ خلیجِ فارس‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
مگر فتح کا وقت ابھی نشاةِ ثانیہ میں ڈھلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ شاہ عباس نے سمجھ لیا کہ پرتگالیوں کا مجھ پر تسلط زمینی طاقت سے نہیں بلکہ بحری برتری سے تھا اور اپنی بحری کمزوری کے پیشِ نظر مجھ پر انحصار خطرناک ہوگا۔
اس لیے اس نے تجارت کا مرکزِ ثقل میرے جزیرے سے ہٹا کر سامنے والے ساحل پر بندر عباس کی طرف موڑ دیا ، جہاں ریاست براہِ راست کنٹرول اور پشت پناہی کر سکتی تھی۔
اس طرح میری بندرگاہوں پر آنے جانے والے جہاز کم ہوتے گئے اور تاجر خشکی کی طرف چلے گئے۔
سترہویں صدی سے انیسویں صدی کے آخر تک ، دو صدیاں جو میری سوانح میں شاذ و نادر ہی بیان ہوتی ہیں، حالانکہ انہی میں جدید خلیج کی بنیاد رکھی گئی۔
اٹھارہویں صدی کے پہلے ربع میں صفوی سلطنت افغان یلغار میں گر گئی۔ پھر آئے نادر شاہ افشاری (حکومت 1736-1747ء) جنہوں نے افراتفری مٹائی اور خلیج پر ایرانی تسلط کا پرانا خواب پھر جگایا۔ انہوں نے بحری بیڑا بنایا، مجھے تابع کیا، افغانوں کا عمان تک تعاقب کیا۔
مگر ان کا بیڑا اس وقت بکھر گیا جب 1741ء میں عرب قبیلے بنو معین کے ملاحوں نے بغاوت کی ۔
یہ وہی ملاح تھے جو 1730ء کی دہائی سے مجھے چلا رہے تھے۔ خلیج میں سمندر کا سبق یہی ہے کہ جو یہاں بحری غلبہ چاہتا ہے، اسے ایسے ملاح چاہییں جو کسی اور کی اطاعت سے نفرت کرتے ہوں ، خواہ حالات انہیں وقتی طور پر مجبور کر دیں۔
اس خلا میں ایک نئی طاقت اٹھی ۔ قواسم: ایک عربی قبائلی اتحاد جو راس الخیمہ اور شارجہ میں مرکوز تھا،دونوں ساحلوں پر موجود تھا، اور گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس (ٹرانزٹ فیس) وصول کرتا تھا۔
اپنے عروج پر انیسویں صدی کے آغاز میں ان کے پاس کم و بیش 300 جہاز اور 8000 جنگجو تھے اور یہ پڑوسی نہیں، بلکہ خود اس خطے کے باشندے تھے۔
انگریز، جو بحرِ ہند پر مطلق تسلط چاہتے تھے، یہ برداشت نہیں کر سکے۔ انہوں نے قواسم پر ’قزاقوں‘ کا لیبل لگایا۔ دہشتگردی کی پرانی اصطلاح اور پورے ساحل کو ’ساحلِ قزاقاں‘کہنے لگے۔
1809ء اور 1819ء میں راس الخیمہ پر حملے کیے۔ 200 سے زیادہ قواسم جہاز جلائے، دارالحکومت زمیں بوس کیا۔
جنوری 1820ء میں برطانیہ نے ’جنرل پیس ٹریٹی‘(امن کا عمومی معاہدہ) مسلط کیا اور یوں ایک ’متصالح امارات‘ وجود میں آئی ۔ یہ وہ بیج ہے، جو ڈیڑھ صدی بعد متحدہ عرب امارات کی شکل میں دنیا نے دیکھا۔
شارجہ کے حکمران اور مؤرخ شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے اپنی علمی کتاب ’خلیج میں عرب قزاقی کا افسانہ‘میں یہ ثابت کیا کہ قزاقی کا الزام ایک نوآبادیاتی ہتھیار تھا ۔ یعنی عرب تجارتی حریف کو ہٹانے اور اپنے قبضے کو جائز ٹھہرانے کا طریقہ، نہ کہ کسی حقیقت کی عکاسی۔
انہی برسوں میں عمانی امامت ایک نئی بحری طاقت بن کر ابھری۔ پرتگالیوں کو مشرقی افریقہ سے نکالا اور زنجبار تک پہنچی۔ ایران کے ساتھ متعدد معاہدوں کے تحت 1798ء سے 1868ء تک مجھے، قشم اور بندر عباس کو عمانیوں نے مسقط کے ساحل سے ایران کے ساتھ ’لیز‘انتظامات کے تحت چلایا۔
جب 1868ء میں ایران نے بندر عباس اور اس کے متعلقہ علاقے واپس لیے، تو میں محض ایک پرانے قلعے کے کھنڈر، کچھ موتی اور ماہی گیروں کے ایک گروہ سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
ان میں سے کچھ شاید اپنی بولی میں ہولندی اور پرتگالی الفاظ استعمال کرتے ہوں جو جزیرے کے باشندوں کی نشانی تھے۔ اُس لمحے میرا نام اور وجود بدل گیا۔ میں خشکی سے پانی میں منتقل ہو گیا اور تب سے میں ’آبنائے ہرمز‘ ہوں۔
بیسویں صدی جو تاحال ختم نہیں ہوئی
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں کے آغاز میں برطانیہ نے خلیج پر ایک منظم نظام قائم کیا۔ اسی چھتری تلے تیل دریافت ہوا ۔ ایران میں 1908ء، عراق میں 1927ء، بحرین میں 1932ء، سعودی عرب اور کویت میں 1938ء، قطر میں 1940ء۔
اس کے بعد خلیج، دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں سے ایک بن گئی اور وہ تنگ گلی جس کے سر پر میں ٹھہرا ہوں، اس دنیا کا ایک اہم دریچہ بن گیا۔
اس کے بعد اچانک کھیل کے اصول بدل گئے اور مقابلے کی فطرت بھی۔ اب لڑائی براہِ راست میرے قبضے کے لیے نہیں، بلکہ گزرنے کی شرائط کے لیے تھی۔
تجارتی بہاؤ اور تیل کے ٹینکروں کی آمد و رفت کو یقینی بنانا نوآبادیاتی تسلط سے زیادہ اہم ہو گیا۔ اسی وجہ سے میں بیسویں صدی کی پہلی نصف میں خبروں سے غائب رہا، مگر اصل فوجی منصوبہ بندی میں اس سے کہیں زیادہ موجود تھا۔ پھر خلیجی جنگ مجھے دوبارہ سے سامنے لے آئی۔
1980ء سے 1988ء تک میں عملاً بند نہیں ہوا، مگر مستقل تناؤ کی جگہ بن گیا جب عراق ایران جنگ کا میدان سمندر تک پھیل گیا۔
’ٹینکرز وار ‘ کے نام سے جانی جانے والی اس جنگ میں دونوں طرف سے 450 سے زیادہ حملے تجارتی جہازوں پر ہوئے (عراق کے 283 اور ایران کے 168)۔
عراق مجھے ایران کو اشتعال دلانے کے لیے استعمال کرتا تھا، جبکہ تہران مجھے ضرورت پڑنے پر دباؤ کے پتے کے طور پر رکھتا تھا۔
اسی دوران کشیدگی کے عروج پر ایران نے میری بندش کی دھمکی دی، مگر عمل نہیں کیا۔
پھر ایک آپریشن کے نام پر امریکہ سمیت بڑی طاقتیں 1987-1988ء میں داخل ہوگئیں ۔ ٹینکروں پر امریکی پرچم لگایا اور انہیں خلیج سے گزارا۔
اسی دوران امریکیوں نے آپریشن ’Nimble Archer‘ میں ایرانی تیل کے پلیٹ فارم نشانہ بنائے اور اسی وقت ماہر نشانہ بازوں نے خلیج پر ایک ایرانی مسافر طیارہ بھی مار گرایا، جس میں 290 عام مسافر ہلاک ہو گئے۔
اُس دور میں دنیا پر میرا اثر اس امکان سے پیدا ہوا کہ مجھے بند کیا جا سکتا ہے۔ بندش کی محض دھمکی کشتی رانی اور انشورنس کے اخراجات بڑھانے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے کافی ہوتی تھی۔
اس وقت میں ایک تجارتی گزرگاہ سے بدل کر ایک اسٹریٹیجک ہتھیار بن گیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ عالمی معیشت مجھ سے متاثر ہوتی ہے، چاہے میں کھلا ہی کیوں نہ ہو۔
اور آج 28 فروری 2026 کو امریکی و اسرائیلی جنگ کے آغاز کے ہفتوں بعد ، میں ایک بار پھر فیصلہ کن ٹکراؤ کے درمیان ہوں اور میدانِ جنگ بن چکا ہوں۔
میں اب کہاں کھڑا ہوں؟
عام حالات میں مجھ سے روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے ۔ دنیا کی سمندری تیل تجارت کا ایک چوتھائی سے زیادہ اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا پانچواں حصہ۔
جنگ کے ہفتوں میں مجھ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 90 فیصد سے زیادہ گر گئی۔ سیکڑوں ٹینکر خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ بیمہ کمپنیاں خطرے کی کوریج کرنے سے قاصر ہیں۔
برینٹ کریو کی قیمت جنگ سے پہلے تقریباً 73 ڈالر فی بیرل سے چند دنوں میں 113 ڈالر سے تجاوز کر گئی اور کچھ تجزیہ کار بندش طویل ہونے کی صورت میں 200 ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
ایران نے مجھے ہر جہت سے خطرناک بنا کر جہاز رانی کو مشکل بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
بیلسٹک اور کروز میزائل، جہاز شکن اور ڈرون میرے ساحلوں اور جزیروں پر تعینات ہیں ۔ یہاں سے ہر جہاز آسان ہدف ہے۔
مجھ میں بحری بارودی سرنگیں سب سے خطرناک ہتھیار ہیں۔ اس کے علاوہ تیز رفتار چھوٹی کشتیاں ساحلوں اور جزیروں سے اچانک وار کر سکتی ہیں۔
اس صورت حال میں امریکا نے تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے ساتھ چلنے کا منصوبہ بنایا اور پھر پیچھے ہٹ گیا، کیونکہ میری تنگی اور میزائلوں و ڈرونز حملے کا مختصر رد عمل کا وقت مجھے جنگی جہازوں کے لیے بھی خطرناک ثابت کرتا ہے۔
کچھ امریکی افسران نے مجھے ’بحری قصاب خانہ‘ بھی کہا ہے اور اگر امریکا تجارتی جہازوں کے ساتھ رہے تو بھی جب تک ایران بندش پر مصر ہے، تجارت کا بہاؤ اپنی معمول کی سطح پر نہیں آ سکتا۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق میری مکمل حفاظت محض دفاع سے نہیں ہو سکتی ۔ اس کے لیے خود خطرے کے ذرائع کو ختم کرنا پڑے گا۔ یعنی میزائل پلیٹ فارم، ڈرون اڈے، بارودی سرنگوں کے گودام اور شاید ایرانی ساحل پر فوجی کنٹرول۔
سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ میری مکمل کشادگی کے لیے سیکڑوں کلومیٹر وسیع پہاڑی اور دشوار گزار علاقے میں بری، بحری اور فضائی آپریشن درکار ہے ۔
ایک ایسی مہم جس کے سامنے دنیا میں ہونے والی بعض بڑی جنگیں آسان لگیں۔
اپریل 2026ء میں بلومبرگ کے تجزیے میں کہا گیا کہ مجھ پر مکمل ناکابندی خود ایک جنگی اقدام ہے اور تہران بغیر جوابی کارروائی کے نہیں مانے گا ۔ ایک ایسی کارروائی جو امریکہ کو لمبی اور مہنگی جنگ میں کھینچ سکتی ہے ،جتنا دنیا نے سوچا بھی نہیں ہے۔
مجھ پر کنٹرول کی ایک یہی آخری صورت ہے۔ مجھے سستے ہتھیاروں سے بار بار ناکارہ تو کیا جا سکتا ہے، مگر مجھے محفوظ بنانے کے لیے بہت بڑا، بہت مہنگا اور بہت طویل فوجی اقدام چاہیے۔
میری فطرت کا جھکاؤ ہمیشہ سے اُس طرف رہا ہے جو مجھے خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے، نہ کہ اس طرف جو مجھے بچانا چاہتا ہے۔
آئیے، شروع کی طرف واپس چلتے ہیں۔ وہ میزائل جو 28 فروری 2026ء کی صبح مینا ب پر گرا، میرے پہلے نام پر گرا ۔ میری اس تاریخی یادداشت کے آغاز پر گرا۔
میری تاریخی یادداشت گواہ ہے کہ ہر وہ بیرونی طاقت جس نے مجھ پر قبضہ چاہا، اس نے بھاری قیمت چکائی۔
پرتگالی سوا صدی تک کوشش کرتے رہے، پھر بکھر گئے۔ برطانوی ایک صدی کوشش کرتے رہے، پھر پورے خطے کو کوئی قابلِ ذکر نتیجہ دیے بغیر چھوڑ گئے اور آج امریکی وہی قیمت ادا کر رہے ہیں ، مگر بغیر کسی قبضے کے۔
کوئی بیرونی طاقت مجھ پر اپنی برتری کو دیرپا نہیں بنا سکی۔ میں ہمیشہ خلیج کے دونوں ساحلوں کے باشندوں کے ہاتھوں میں ہی لوٹتا ہوں۔
نیارخوس کے زمانے سے 2350 سال پہلے سے لے کر آج تک ، چاہے وہ بوشم والا ہیگسیتھ ہو یا کوئی اور ، یہی سبق بار بار دہرایا جاتا ہے، مگر کوئی سیکھتا نہیں۔
آخری بات، دوستو! اگر میری باتیں آپ کو جغرافیائی رومانوی لگتی ہیں تو یاد رکھیں کہ جغرافیہ خاموش سرزمین نہیں ہے۔ یہ سیاست کے خلاف تاریخ کی دلیل ہے اور سیاست، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، دور اندیشی کا نام ہے۔
میں صبر کرتا ہوں، دونوں کناروں پر اس سرزمین کے باشندوں کی طرح۔ میں نے منگولوں کے زوال، پرتگالیوں کے زوال اور انگریزوں کے زوال کا انتظار کیا اور میں دوبارہ انتظار کروں گا۔