اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

’’ ٹرمپ کے پاس ہرمز بحالی کا کوئی پلان نہیں، نیٹو کو مداخلت کرنا ہوگی‘‘

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تہران کے منجمد اثاثے اور ایران امریکہ مذاکرات کی اہمیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

معروف امریکی صحافی تھامس فریڈمین نے نیویارک ٹائمز میں اپنے حالیہ مضمون کے ذریعے نیٹو ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کریں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف موجودہ امریکی پالیسیاں عالمی بحری تجارت اور توانائی کے نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

تھامس فریڈمین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں خودپسند اور غیر محتاط قرار دیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے، جس کی وجہ سے خطے میں جاری بحران کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتا ہے۔

مضمون میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری قائم کرنے کے لیے ایک نئی اتھارٹی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

اس اقدام کا مقصد بحری جہازوں سے فیس وصول کرنا اور گزرنے کی اجازت دینا ہے، جسے فریڈمین نے قانونی قزاقی  قرار دیتے ہوئے عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

تھامس فریڈمین کا ٹرمپ کی پالیسی اور آبنائے ہرمز پر تجزیہ
فریڈمین نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو خودپسند اور غیر محتاط قرار دیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

فریڈمین نے اس خطرے کو صرف امریکہ نہیں بلکہ یورپی معیشت کی شہ رگ پر بھی حملہ قرار دیا ہے۔

یورپ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی گیس پر انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے وہاں توانائی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے نیٹو اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں ہونے کے باوجود خاموش نہ رہیں۔ 

فریڈمین کے مطابق ٹرمپ نے ماضی میں یوکرین، کینیڈا اور روس کے حوالے سے جو رویہ اپنایا، اس نے اتحادیوں کو ناراض کیا ہے مگر اب اس خاموشی کا نقصان پوری دنیا کو اٹھانا پڑے گا۔

مضمون کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی خلیجی عرب ممالک کے جدید ترقیاتی ماڈل کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ 

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ناکامیوں پر خوش ہونا عالمی برادری کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے

اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار، سیاح اور ماہرین خطے سے منتقل ہو رہے ہیں جبکہ ان ممالک کے دفاعی اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
فریڈمین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے تہران کو معاشی مراعات اور پابندیوں میں نرمی دینا ہوگی۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کنٹرول کا کوئی بھی مستقل اختیار دینا عالمی برادری کی ایک تاریخی غلطی ثابت ہوگی۔

مضمون کے آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ناکامیوں پر خوش ہونا عالمی برادری کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اگر ایران اس بحران سے مزید طاقتور بن کر نکلا تو اس کے اثرات پوری دنیا کے لیے ایک خوفناک معاشی اور سیاسی طوفان کی صورت میں سامنے آئیں گے۔