انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے، جس کی وجہ سے خطے میں جاری بحران کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتا ہے۔
مضمون میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری قائم کرنے کے لیے ایک نئی اتھارٹی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس اقدام کا مقصد بحری جہازوں سے فیس وصول کرنا اور گزرنے کی اجازت دینا ہے، جسے فریڈمین نے قانونی قزاقی قرار دیتے ہوئے عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
فریڈمین نے اس خطرے کو صرف امریکہ نہیں بلکہ یورپی معیشت کی شہ رگ پر بھی حملہ قرار دیا ہے۔
یورپ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی گیس پر انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے وہاں توانائی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے نیٹو اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں ہونے کے باوجود خاموش نہ رہیں۔
فریڈمین کے مطابق ٹرمپ نے ماضی میں یوکرین، کینیڈا اور روس کے حوالے سے جو رویہ اپنایا، اس نے اتحادیوں کو ناراض کیا ہے مگر اب اس خاموشی کا نقصان پوری دنیا کو اٹھانا پڑے گا۔
مضمون کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی خلیجی عرب ممالک کے جدید ترقیاتی ماڈل کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔