شام میں نئی حکومت نے سابق صدر بشار الاسد سمیت ماضی کے حکمران طبقے کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے اس حوالے سے بین الاقوامی پولیس (انٹرپول) سے رابطہ کرنے کے ساتھ روس سے بھی باضابطہ تعاون کی درخواست کی ہے۔
شامی نائب وزیر داخلہ میجر جنرل عبدالقادر الطحان نے ایک پروگرام میں بتایا کہ درعا کے سابق سیاسی سیکیورٹی چیف عاطف نجیب کا ٹرائل ایک اہم موڑ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ قدم تصادم سے نکل کر باقاعدہ قانونی اور ادارہ جاتی احتساب کی طرف بڑی پیش رفت ہے۔ شام میں عبوری انصاف کا مقصد صرف چند افراد کو سزا دینا نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل میں سچائی کی تلاش، متاثرین کی تلافی اور مستقبل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے تمام اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
نائب وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ دمشق نے انٹرپول کے ذریعے مفرور عہدیداروں کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
ان میں بشار الاسد کا نام سرفہرست ہے جنہیں شامی عوام کے خلاف جرائم کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شامی حکومت نے پہلی بار باضابطہ طور پر روس سے بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم عبدالقادر الطحان کے مطابق ماسکو نے ابھی تک اس درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ اس حوالے سے سفارتی و قانونی کوششیں جاری ہیں۔
شامی اٹارنی جنرل حسان التربہ نے بتایا کہ سابق دور کے متعدد اہم مہروں کے خلاف ان کی غیر حاضری میں وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔
ان افراد کی حوالگی کے لیے مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ اب مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف ایک جامع سیاسی اور قانونی نظام کے تحت کام کر رہی ہے تاکہ کوئی مجرم سزا سے بچ نہ سکے۔ اس سلسلے میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور گواہوں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
نائب وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ حکومت نے سابق نظام کے 90 سے 95 فیصد آرکائیو اور حساس دستاویزات پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کی حفاظت کے لیے وزارت داخلہ میں ایک خصوصی شعبہ قائم کر کے ریکارڈ محفوظ کر لیا گیا ہے۔
شامی حکام کے پاس اب دستاویزی ثبوتوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے جو سیکیورٹی اور فوجی حکام کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
اسی دوران زیر حراست متعدد افسران سے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تفتیش جاری ہے۔
یاد رہے کہ اسد خاندان کے 5 دہائیوں پر محیط اقتدار کے دوران ہونے والے جرائم کی سنگینی کے باعث احتساب میں وقت لگے گا۔ حکام کا خیال ہے کہ 2030 تک شام میں قومی بحالی اور سماجی استحکام کا عمل مکمل طور پر شروع ہو سکے گا۔