اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

مملکت: خطے میں کشیدگی کم کرنے کی پاکستانی ثالثی کی حمایت کااعادہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعاون اور علاقائی امن کی کوششوں کی عکاسی
سعودی عرب تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مملکت کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستانی ثالثی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

مبصرین کے مطابق سعودی عرب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے حکام نے اس سلسلے میں واضح کیا ہے کہ مملکت نہ صرف خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے گریز کی حامی ہے بلکہ ان تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے جو خطے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوں۔

گمراہ کن خبروں کی تردید

وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد قرملی نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی بے بنیاد خبریں سعودی پالیسی کے برعکس ہیں۔

اسی طرح ایک سعودی ذریعے نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مملکت نے اپنی فضائی حدود کسی بھی جارحانہ فوجی آپریشن کے لیے استعمال کرنے کی اجازت قطعی نہیں دی ہے۔

سعودی لاجسٹک نظام اور ہرمز متبادل تجارتی راستہ
(فوٹو: العربیہ)

کشیدگی میں کمی اور بحری نقل و حمل کی بحالی

وزارتِ خارجہ نے 5 مئی کو جاری بیان میں خلیج عرب میں تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

ریاض حکومت کا مطالبہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جائے تاکہ خطے کو مزید بڑے بحرانوں اور کشیدگی سے بچایا جا سکے۔

اسٹریٹیجک صبر اور جوابی دفاع

فروری کے اواخر میں شروع ہونے والے علاقائی بحران کے دوران مملکت نے ’اسٹریٹجک صبر‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔

اگرچہ ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، تاہم مملکت نے براہِ راست جارحانہ کارروائیوں سے گریز کیا اور اپنے دفاعی نظام کو مضبوط رکھا۔

kuwait irani missile attack
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سپلائی کا متبادل انتظام

حملوں کے بعد توانائی کی سپلائی میں عارضی تعطل کو سعودی حکومت نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں سے جلد بحال کیا۔

تیل کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کی بندرگاہوں اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا مؤثر استعمال کیا گیا، جس سے خلیجی ممالک کو درپیش رسد کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملی۔

پاکستانی ثالثی اور سفارتی پیش رفت

وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطے میں جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مسلسل رابطے جاری رکھے۔

اسی دوران پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جدہ کا دورہ کیا اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس سفارتی کوشش کے نتیجے میں خلیج اور لبنان میں جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کا سہرا سعودی قیادت کو جاتا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعاون اور علاقائی امن کی کوششوں کی عکاسی
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جدہ کا دورہ کیا اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی (فوٹو: ایکس)

سعودی اہداف اور وژن 2030

مملکت کا مقصد مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کا خاتمہ ہے۔

سعودی عرب چاہتا ہے کہ ایران جوہری پروگرام کا عسکری استعمال ترک اور خطے میں مداخلت بند کرے۔

تجزیہ کارون کا کہنا ہے کہ ان تمام کوششوں کا محور سعودی عرب کا ’وژن 2030‘ ہے، جس کے لیے ایک مستحکم اور پرامن خطہ انتہائی ناگزیر ہے۔