ایک امریکی ڈیولپر نے کریڈٹ کارڈ کے سائز کا انتہائی نحیف کمپیوٹر تیار کر لیا ہے جو آسانی سے بٹوے میں رکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین کے مطابق یہ دلچسپ انوکھی ایجاد مستقبل میں پورٹیبل کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک نئے انقلابی دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔
اس جدید ڈیوائس کو ’مکس کارڈ‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی مجموعی موٹائی محض ایک ملی میٹر ہے۔
اس کے باوجود اس میں اسکرین، سینسرز، وائرلیس کنکشن جیسے تمام ضروری کمپیوٹر فیچرز شامل ہیں جو اسے ایک مکمل مشین بناتے ہیں۔
’ڈیجیٹل ٹرینڈز‘کے مطابق یہ منصوبہ گٹ ہب پلیٹ فارم پر ’krauseler‘ نامی صارف نے پیش کیا ہے۔ اس کے منفرد ڈیزائن اور جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے ڈویلپرز اور الیکٹرانکس کے شوقین افراد کی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔
تکنیکی لحاظ سے اس میں ای ایس پی 32-سی 3 چپ اور ڈیڑھ انچ کی ای انک اسکرین استعمال کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اس چھوٹی ڈیوائس میں این ایف سی، موشن سینسر، بلوٹوتھ، وائی فائی اور ایک چھوٹی لیتھیم پولیمر بیٹری بھی شامل کی گئی ہے۔
ڈیولپر کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس ڈیوائس کو بٹوے میں دباؤ اور مڑنے سے محفوظ رکھنا تھا۔
اس مقصد کے لیے لچکدار الیکٹرانک بورڈز استعمال کیے گئے ہیں اور حساس پرزوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔
اس باریک ڈیزائن میں ای انک اسکرین کی تنصیب ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ روایتی کنیکٹرز کے لیے جگہ کم تھی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ڈیولپر نے اسکرین کی لچکدار کیبل پر تمام کنکشنز کو خود اپنے ہاتھوں سے ٹانکے لگائے۔
ای انک اسکرین کے استعمال سے بیٹری کا استعمال انتہائی کم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ ساکن معلومات کو دیر تک دکھا سکتی ہے۔
یہ ڈیوائس ڈیجیٹل شناختی کارڈز، اسمارٹ بزنس کارڈز اور اسمارٹ ہوم کنٹرول جیسے مختلف مقاصد کے لیے بہترین ثابت ہو سکتی ہے۔
مکس کارڈ فی الحال ایک تجرباتی اوپن سورس پروجیکٹ ہے اور ابھی اسے تجارتی بنیادوں پر فروخت کے لیے پیش نہیں کیا گیا، تاہم اس کے ڈیزائن اور سافٹ ویئر کی فائلیں غیر تجارتی استعمال کے لیے تمام ڈیولپرز کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے منصوبے ’غیر مرئی کمپیوٹنگ‘ کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ڈیجیٹل آلات مزید چھوٹے ہو کر ہماری روزمرہ زندگی کی عام اشیا کا لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔