اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی متعارف کروانے کے بعد کارپوریٹ دنیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔
مزید پڑھیں
اس تکنیکی انقلاب نے نہ صرف کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کیا ہے بلکہ کمپنیوں کی انتظامی سطح پر بھی ایک نئی اور اہم پیشرفت کو جنم دیا ہے۔
کارپوریٹ دنیا میں نیا عہدہ تخلیق
آئی بی ایم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی کمپنیاں اب چیف اے آئی آفیسر کا نیا عہدہ تخلیق کر رہی ہیں۔
اس سروے میں شامل 76 فیصد کمپنیوں نے یہ عہدہ تشکیل دیا ہے، جو 2025 میں صرف 26 فیصد تھا۔ یہ اعداد و شمار کارپوریٹ حکمت عملیوں میں تیزی سے آتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت کیوں؟
میکنزی اینڈ کمپنی کے ماہر وویک لاتھ کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس صنعتی اور ڈیجیٹل انقلاب کے بعد سب سے بڑی تنظیمی تبدیلی لا رہا ہے۔
اب کمپنیاں انفرا اسٹرکچر، ڈیٹا گورننس اور سسٹم انٹیگریشن جیسے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک الگ انتظامی شعبہ تشکیل دے رہی ہیں تاکہ اے آئی کے مربوط استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
کرداروں میں تضاد اور حل کی تلاش
اومڈیا کی ماہر جی سو کے مطابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور چیف انفارمیشن آفیسر جیسے روایتی عہدوں کے موجودگی میں اے آئی حکمت عملیوں کے ذمہ دار کا تعین مشکل تھا۔
اسی لیے ایچ ایس بی سی اور لائیڈز بینکنگ گروپ جیسی بڑی مالیاتی تنظیموں نے خصوصی اے آئی افسران کا تقرر شروع کر دیا ہے۔
انسانی وسائل کا نیا کردار
آئی بی ایم کی رپورٹ کے مطابق اے آئی کے نفاذ میں اب انسانی وسائل کے شعبے (HR) کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
59 فیصد کمپنیاں توقع کرتی ہیں کہ مستقبل میں ایچ آر کا اثر و رسوخ بڑھے گا، کیونکہ ملازمین کی تربیت اور کارپوریٹ کلچر میں بہتری اب تکنیکی رکاوٹوں سے زیادہ بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
رینڈی بین کے ایک اور سروے میں انکشاف ہوا کہ 93 فیصد کمپنیوں کے لیے تکنیکی محدودیت سے زیادہ انسانی اور کام کے ماحول جیسے عوامل بڑی رکاوٹ ہیں۔
لہذا اے آئی کو کامیابی سے اپنانے کے لیے تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ساتھ کام کے ماحول میں تبدیلی لانا بھی اب کمپنیوں کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔
ملازمتوں کا تحفظ
دنیا میں ایک طرف پیداواری صلاحیت بڑھنے کے دعوے کیے جاتے ہیں تو دوسری جانب ملازمتوں کے خاتمے کا خوف بھی موجود ہے۔
لے آف ڈاٹ ایف وائی آئی کے ڈیٹا کے مطابق رواں سال دنیا بھر میں ایک لاکھ ایک ہزار سے زائد ٹیکنالوجی ورکرز کو نوکریوں سے نکالا گیا، جس میں میٹا اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
اگرچہ آٹومیشن کے باعث نچلی سطح پر ملازمتوں کو خطرات لاحق ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ انتظامی عہدے فوری طور پر محفوظ رہیں گے۔
اسٹریٹیجک فیصلے کرنا اور باہمی تعلقات کو سنبھالنا ایسے انسانی امور ہیں جو تاحال مصنوعی ذہانت کی پہنچ سے نسبتاً دُور اور اہم ہیں۔