اہم خبریں
11 May, 2026
--:--:--

جینزی کی ذہنی صلاحیت پر سوال: کیا نئی نسل کم ذہین ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جیل زد اور ڈیجیٹل دنیا
جنریشن زی وہ نسل ہے جو مکمل طور پر ڈیجیٹل دنیا میں پروان چڑھی

دنیا بھر میں سامنے آنے والی نئی تحقیقات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ ڈیجیٹل ماحول نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کی توجہ، مطالعے کی عادت، تجزیاتی صلاحیت اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون، سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز اور مسلسل اسکرین استعمال نے نوجوانوں کی گہری سوچ اور مسلسل توجہ کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے جبکہ تعلیم، نیند اور یادداشت بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

2018 کی ایک سرد شام ناروے کے دار الحکومت اوسلو میں واقع راگنر فریش تحقیقی مرکز میں دو محققین، اولی روگبرگ اور بیرنٹ براٹسبرگ، ایک ایسی تحقیق کے نتائج پر گفتگو کر رہے تھے جس نے سائنسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ 

ان نتائج سے ظاہر ہو رہا تھا کہ نئی نسلوں کی بعض ذہنی اور تعلیمی صلاحیتوں میں کمی کے آثار پائے جا رہے ہیں لیکن کیا واقعی دنیا کے نوجوان ’کم ذہین‘ ہوتے جا رہے ہیں؟ یا مسئلہ کچھ زیادہ پیچیدہ ہے؟

مزید پڑھیں

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نسلوں کے درمیان کوئی واضح ’حیاتیاتی‘ فرق نہیں ہوتا۔ 

یعنی یہ کہنا درست نہیں کہ ایک نسل دماغی ساخت کے لحاظ سے فطری طور پر زیادہ ذہین اور دوسری کم ذہین ہے۔ 

نسلوں کے درمیان وقت کا فرق اتنا زیادہ نہیں ہوتا کہ انسانی حیاتیات میں اتنی بڑی تبدیلیاں آ جائیں البتہ ماحول، تعلیم، معیشت، سیاست، 

ٹیکنالوجی اور سماجی حالات یقیناً انسانی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں آج کل ’جنریشن زی‘ یا عرف عام میں ’جینزی‘ Generation Z / Gen Z کے بارے میں مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ 

یہ نسل تقریباً 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والوں پر مشتمل ہے اور یہی وہ نسل ہے جو انٹرنیٹ، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے ساتھ پلی بڑھی۔ 

بعض لوگ اسے زیادہ آزاد خیال، باغی اور اتھارٹی کو چیلنج کرنے والی نسل قرار دیتے ہیں مگر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ فرق بنیادی نہیں بلکہ عمر، تاریخی حالات اور ڈیجیٹل ماحول کا نتیجہ ہو، کیونکہ ہر نسل اپنی جوانی میں کسی نہ کسی شکل میں بغاوت اور تبدیلی کی خواہش رکھتی ہے۔

close up of a line of high school students using m 2026 01 05 06 27 04 utc
اصل سوال ’کیا کہا گیا؟‘ نہیں بلکہ ’کیسے اور کیوں کہا گیا؟‘ بن چکا ہے

گزشتہ چند برسوں میں میڈیا میں ایک جملہ بار بار دہرایا گیا کہ جنریشن زی تاریخ کی سب سے کم ذہین نسل ہے۔ 

سائنسی شواہد اتنی سخت بات نہیں کرتے لیکن وہ ایک اہم رجحان ضرور ظاہر کرتے ہیں: مختلف ممالک میں نوجوانوں کی علمی اور تعلیمی کارکردگی میں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر مطالعہ، ریاضی اور تجزیاتی صلاحیتوں میں۔

جینزی پر
ڈیجیٹل حملہ!
توجہ، یادداشت
اور ذہانت
خطرے میں

اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم OECD کے بین الاقوامی جائزوں کے مطابق 2022 میں طلبہ کی اوسط کارکردگی 2018 کے مقابلے میں مطالعہ میں تقریباً 10 اور ریاضی میں 15 پوائنٹس کم ہوئی۔
تعلیمی معیار کے مطابق یہ ایک بڑی کمی سمجھی جاتی ہے، جو تقریباً کئی ماہ کی تعلیمی پسماندگی کے برابر ہے۔
امریکا میں این اے ای پی یا ’نیشنز رپورٹ کارڈ‘ نے بھی یہی تصویر پیش کی۔
2024 میں بارہویں جماعت کے طلبہ کے مطالعہ اور ریاضی کے نتائج پچھلے کئی برسوں سے کم رہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان ’بیوقوف‘ ہو گئے ہیں بلکہ یہ کہ فہم، توجہ، تجزیہ اور مسئلہ حل کرنے جیسی اہم صلاحیتوں میں کمزوری پیدا ہو رہی ہے۔

یہ بحث ہمیں ’فلین ایفیکٹ‘ تک لے جاتی ہے۔ 

یہ اصطلاح اس رجحان کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں بیسویں صدی کے دوران IQ ٹیسٹوں کے نتائج نسل در نسل بہتر ہوتے گئے۔ 

امریکی، نیوزی لینڈ محقق جیمز فلین نے مشاہدہ کیا کہ نئی نسلیں پرانی نسلوں کے مقابلے میں انہی ٹیسٹوں میں زیادہ نمبر حاصل کر رہی تھیں۔ 

کئی ترقی یافتہ ممالک میں ہر دہائی کے ساتھ IQ میں اوسطاً 3 سے 5 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔

low angle view of young group of multicultural wom 2026 03 24 06 08 58 utc
سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی سوچ چھین لی؟ ماہرین کی تشویشناک وارننگ

ماہرین نے اس کی وجہ بہتر تعلیم، اچھی غذا، صحت، بہتر معیارِ زندگی اور زیادہ علمی ماحول کو قرار دیا مگر یہ رجحان ہمیشہ جاری نہیں رہا۔ 

بیسویں صدی کے آخری حصے میں بعض ممالک میں یہ اضافہ رک گیا اور پھر الٹا رجحان سامنے آنے لگا، جسے بعض ماہرین ’ریورس فلین ایفیکٹ‘ کہتے ہیں۔

اسی حوالے سے ناروے کے محققین روگبرگ اور براٹسبرگ کی 2018 کی تحقیق بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ 

انہوں نے لاکھوں نارویجین مردوں کے فوجی بھرتی ٹیسٹوں کا جائزہ لیا۔ 

ان ٹیسٹوں میں ریاضی، الفاظ، منطقی سوچ اور عمومی ذہنی صلاحیتوں کا امتحان لیا جاتا تھا۔

کیا نئی نسل
واقعی کم ذہین
ہو رہی ہے؟
تحقیقات نے
دنیا کو ہلا دیا

اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں صرف مختلف نسلوں کا موازنہ نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہی خاندان کے بھائیوں کو بھی آپس میں دیکھا گیا۔
اگر چھوٹا بھائی، جو چند سال بعد پیدا ہوا، اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں کم اسکور کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف جینیاتی یا آبادیاتی نہیں بلکہ ماحول میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔
تحقیق کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد تعلیم، صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری کی وجہ سے IQ میں اضافہ ہوا، مگر بعد کی نسلوں میں بعض ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس رجحان کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔
یہیں سے ڈیجیٹل دنیا کا کردار سامنے آتا ہے۔
آج بچے اور نوجوان اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسکرینوں کے سامنے گزارتے ہیں۔

تعلیم، تفریح، رابطہ، کھیل، خبریں اور سوشل تعلقات سب کچھ موبائل اور کمپیوٹر کے ذریعے ہو رہا ہے۔ 

اگر اسی عرصے میں مطالعہ اور ریاضی کے نتائج بھی گر رہے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں چیزوں میں کوئی تعلق ہے؟

2026 میں امریکی سینیٹ کے سامنے نیوروسائنس اور تعلیم کے ماہر جیرڈ کونی ہورفتھ نے کہا کہ اسکولوں میں اسکرینوں کے بڑھتے استعمال نے توقع کے مطابق تعلیمی انقلاب پیدا نہیں کیا۔ 

ان کے مطابق ٹیکنالوجی کو اکثر ’دلچسپ‘ اور ’جدید‘ سمجھ کر اپنایا گیا مگر طویل المدتی تعلیمی نتائج ہمیشہ مثبت ثابت نہیں ہوئے۔

اسی طرح متعدد تحقیقات نے اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور ویڈیو گیمز کے حد سے زیادہ استعمال اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان منفی تعلق ظاہر کیا ہے۔ 

اگرچہ یہ اثر ہمیشہ بہت بڑا نہیں ہوتا مگر مختلف ممالک اور مطالعات میں بار بار سامنے آنے کی وجہ سے اسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ ’توجہ کی معیشت‘ ہے۔ 

جدید ڈیجیٹل دنیا انسان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ 

نوٹیفکیشنز، مختصر ویڈیوز، لائکس، شیئرز اور مسلسل بدلتا مواد دماغ میں فوری انعام کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ 

اس سے انسان مسلسل ایک محرک سے دوسرے محرک کی طرف چھلانگ لگانے کا عادی ہو جاتا ہے۔

happy young people sitting together outdoors 2026 01 08 07 10 54 utc
اسکرینوں کے قبضے میں نوجوان دماغ، تعلیمی بحران سنگین ہوگیا

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لمبے متن، گہرے مطالعے اور مسلسل توجہ کی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اب طویل مضامین، کتابیں یا دستاویزی فلمیں مکمل توجہ کے ساتھ نہیں دیکھ پاتے۔

تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ خاص طور پر رات کے وقت اسکرین استعمال کرنے سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ 

نیند یادداشت، توجہ اور ذہنی استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ 

اگر نیند کمزور ہو جائے تو سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

شارٹ ویڈیوز کا
زہر! جینزی کی
توجہ اور فہم
تیزی سے متاثر

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے مختصر مواد نے ’گہری سوچ‘ کی عادت کو کمزور کیا ہے۔
چند سیکنڈ کی ویڈیوز اور مختصر پوسٹس فوری جذبات تو پیدا کرتی ہیں مگر انسان کو سوچنے، تجزیہ کرنے اور معلومات کو ذہن میں گھمانے کا وقت نہیں دیتیں۔
اس کے برعکس کتابیں، طویل مضامین اور سنجیدہ مطالعہ دماغ کو صبر، توجہ اور منطقی ربط سکھاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض مطالعات نے کاغذ پر مطالعے کو ڈیجیٹل مطالعے کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، خاص طور پر طویل اور پیچیدہ متن کے معاملے میںتاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔

اصل مسئلہ اس کے بے تحاشا، بے مقصد اور غیر متوازن استعمال میں ہے۔

اگر ہمارا مقصد ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے تو تحقیق ایک واضح راستہ دکھاتی ہے: 

گہرے سیکھنے کی بنیادوں کی طرف واپسی۔ 

یعنی روزانہ طویل مطالعہ، سنجیدہ تحریر، تجزیاتی گفتگو اور مستقل توجہ کی مشق۔

علیم میں صرف MCQs پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے جو استدلال، وضاحت اور تنقیدی سوچ پیدا کریں۔ 

اسی طرح اسکولوں میں اسکرینوں کے غیر ضروری استعمال کو کم کر کے کتاب، مباحثہ اور عملی تجربات کو اہمیت دی جا سکتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل وسائل کو صرف مخصوص تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

night bangkok city backdrop with social media icon 2026 03 26 05 10 15 utc
موبائل، سوشل میڈیا اور گرتی ذہانت… نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

گھروں میں بھی سادہ تبدیلیاں بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔ 

مثال کے طور پر سونے سے پہلے فون کا استعمال کم کرنا، موبائل کو بیڈ روم سے باہر رکھنا، نوٹیفکیشنز محدود کرنا، کھانے اور خاندانی نشستوں کے دوران فون دور رکھنا اور نیند کا باقاعدہ نظام بنانا توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔

آخر میں اہم بات یہ ہے کہ ’جنریشن زی سب سے کم ذہین نسل ہے‘ جیسا دعویٰ سادہ اور غیر سائنسی ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ذہانت صرف IQ نمبر نہیں بلکہ توجہ، مطالعہ، تجزیہ، یادداشت، نظم و ضبط اور مسئلہ حل کرنے کی مجموعی صلاحیت کا نام ہے۔

ڈیجیٹل دنیا نے انسان کی زندگی کو آسان بھی بنایا ہے اور پیچیدہ بھی۔ 

اگر یہ دنیا ہماری توجہ، وقت اور ذہنی سکون کو مسلسل تقسیم کرتی رہے گی تو اس کا اثر علمی صلاحیتوں پر پڑنا فطری ہے لیکن یہ مسئلہ صرف جینزی تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر نسل اس کا شکار ہے۔ 

فرق صرف اتنا ہے کہ جنریشن زی کی پوری ذہنی نشوونما اسی ڈیجیٹل ماحول میں ہوئی۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی نسل زیادہ ذہین ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی توجہ، مطالعے اور گہری سوچ کی صلاحیت کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ 

بشکریہ: الجزیرہ

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے