دنیا بھر میں سامنے آنے والی نئی تحقیقات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ ڈیجیٹل ماحول نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کی توجہ، مطالعے کی عادت، تجزیاتی صلاحیت اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون، سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز اور مسلسل اسکرین استعمال نے نوجوانوں کی گہری سوچ اور مسلسل توجہ کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے جبکہ تعلیم، نیند اور یادداشت بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
جینزی پر
ڈیجیٹل حملہ!
توجہ، یادداشت
اور ذہانت
خطرے میں
اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم OECD کے بین الاقوامی جائزوں کے مطابق 2022 میں طلبہ کی اوسط کارکردگی 2018 کے مقابلے میں مطالعہ میں تقریباً 10 اور ریاضی میں 15 پوائنٹس کم ہوئی۔
تعلیمی معیار کے مطابق یہ ایک بڑی کمی سمجھی جاتی ہے، جو تقریباً کئی ماہ کی تعلیمی پسماندگی کے برابر ہے۔
امریکا میں این اے ای پی یا ’نیشنز رپورٹ کارڈ‘ نے بھی یہی تصویر پیش کی۔
2024 میں بارہویں جماعت کے طلبہ کے مطالعہ اور ریاضی کے نتائج پچھلے کئی برسوں سے کم رہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان ’بیوقوف‘ ہو گئے ہیں بلکہ یہ کہ فہم، توجہ، تجزیہ اور مسئلہ حل کرنے جیسی اہم صلاحیتوں میں کمزوری پیدا ہو رہی ہے۔
یہ بحث ہمیں ’فلین ایفیکٹ‘ تک لے جاتی ہے۔
یہ اصطلاح اس رجحان کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں بیسویں صدی کے دوران IQ ٹیسٹوں کے نتائج نسل در نسل بہتر ہوتے گئے۔
امریکی، نیوزی لینڈ محقق جیمز فلین نے مشاہدہ کیا کہ نئی نسلیں پرانی نسلوں کے مقابلے میں انہی ٹیسٹوں میں زیادہ نمبر حاصل کر رہی تھیں۔
کئی ترقی یافتہ ممالک میں ہر دہائی کے ساتھ IQ میں اوسطاً 3 سے 5 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین نے اس کی وجہ بہتر تعلیم، اچھی غذا، صحت، بہتر معیارِ زندگی اور زیادہ علمی ماحول کو قرار دیا مگر یہ رجحان ہمیشہ جاری نہیں رہا۔
بیسویں صدی کے آخری حصے میں بعض ممالک میں یہ اضافہ رک گیا اور پھر الٹا رجحان سامنے آنے لگا، جسے بعض ماہرین ’ریورس فلین ایفیکٹ‘ کہتے ہیں۔
اسی حوالے سے ناروے کے محققین روگبرگ اور براٹسبرگ کی 2018 کی تحقیق بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔
انہوں نے لاکھوں نارویجین مردوں کے فوجی بھرتی ٹیسٹوں کا جائزہ لیا۔
ان ٹیسٹوں میں ریاضی، الفاظ، منطقی سوچ اور عمومی ذہنی صلاحیتوں کا امتحان لیا جاتا تھا۔
کیا نئی نسل
واقعی کم ذہین
ہو رہی ہے؟
تحقیقات نے
دنیا کو ہلا دیا
اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں صرف مختلف نسلوں کا موازنہ نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہی خاندان کے بھائیوں کو بھی آپس میں دیکھا گیا۔
اگر چھوٹا بھائی، جو چند سال بعد پیدا ہوا، اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں کم اسکور کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف جینیاتی یا آبادیاتی نہیں بلکہ ماحول میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔
تحقیق کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد تعلیم، صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری کی وجہ سے IQ میں اضافہ ہوا، مگر بعد کی نسلوں میں بعض ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس رجحان کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔
یہیں سے ڈیجیٹل دنیا کا کردار سامنے آتا ہے۔
آج بچے اور نوجوان اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسکرینوں کے سامنے گزارتے ہیں۔
تعلیم، تفریح، رابطہ، کھیل، خبریں اور سوشل تعلقات سب کچھ موبائل اور کمپیوٹر کے ذریعے ہو رہا ہے۔
اگر اسی عرصے میں مطالعہ اور ریاضی کے نتائج بھی گر رہے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں چیزوں میں کوئی تعلق ہے؟
2026 میں امریکی سینیٹ کے سامنے نیوروسائنس اور تعلیم کے ماہر جیرڈ کونی ہورفتھ نے کہا کہ اسکولوں میں اسکرینوں کے بڑھتے استعمال نے توقع کے مطابق تعلیمی انقلاب پیدا نہیں کیا۔
ان کے مطابق ٹیکنالوجی کو اکثر ’دلچسپ‘ اور ’جدید‘ سمجھ کر اپنایا گیا مگر طویل المدتی تعلیمی نتائج ہمیشہ مثبت ثابت نہیں ہوئے۔
شارٹ ویڈیوز کا
زہر! جینزی کی
توجہ اور فہم
تیزی سے متاثر
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے مختصر مواد نے ’گہری سوچ‘ کی عادت کو کمزور کیا ہے۔
چند سیکنڈ کی ویڈیوز اور مختصر پوسٹس فوری جذبات تو پیدا کرتی ہیں مگر انسان کو سوچنے، تجزیہ کرنے اور معلومات کو ذہن میں گھمانے کا وقت نہیں دیتیں۔
اس کے برعکس کتابیں، طویل مضامین اور سنجیدہ مطالعہ دماغ کو صبر، توجہ اور منطقی ربط سکھاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض مطالعات نے کاغذ پر مطالعے کو ڈیجیٹل مطالعے کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، خاص طور پر طویل اور پیچیدہ متن کے معاملے میںتاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔
اصل مسئلہ اس کے بے تحاشا، بے مقصد اور غیر متوازن استعمال میں ہے۔
اگر ہمارا مقصد ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے تو تحقیق ایک واضح راستہ دکھاتی ہے:
گہرے سیکھنے کی بنیادوں کی طرف واپسی۔
یعنی روزانہ طویل مطالعہ، سنجیدہ تحریر، تجزیاتی گفتگو اور مستقل توجہ کی مشق۔
علیم میں صرف MCQs پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے جو استدلال، وضاحت اور تنقیدی سوچ پیدا کریں۔
اسی طرح اسکولوں میں اسکرینوں کے غیر ضروری استعمال کو کم کر کے کتاب، مباحثہ اور عملی تجربات کو اہمیت دی جا سکتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل وسائل کو صرف مخصوص تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
گھروں میں بھی سادہ تبدیلیاں بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔
مثال کے طور پر سونے سے پہلے فون کا استعمال کم کرنا، موبائل کو بیڈ روم سے باہر رکھنا، نوٹیفکیشنز محدود کرنا، کھانے اور خاندانی نشستوں کے دوران فون دور رکھنا اور نیند کا باقاعدہ نظام بنانا توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
آخر میں اہم بات یہ ہے کہ ’جنریشن زی سب سے کم ذہین نسل ہے‘ جیسا دعویٰ سادہ اور غیر سائنسی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ذہانت صرف IQ نمبر نہیں بلکہ توجہ، مطالعہ، تجزیہ، یادداشت، نظم و ضبط اور مسئلہ حل کرنے کی مجموعی صلاحیت کا نام ہے۔
ڈیجیٹل دنیا نے انسان کی زندگی کو آسان بھی بنایا ہے اور پیچیدہ بھی۔
اگر یہ دنیا ہماری توجہ، وقت اور ذہنی سکون کو مسلسل تقسیم کرتی رہے گی تو اس کا اثر علمی صلاحیتوں پر پڑنا فطری ہے لیکن یہ مسئلہ صرف جینزی تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر نسل اس کا شکار ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ جنریشن زی کی پوری ذہنی نشوونما اسی ڈیجیٹل ماحول میں ہوئی۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی نسل زیادہ ذہین ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی توجہ، مطالعے اور گہری سوچ کی صلاحیت کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
بشکریہ: الجزیرہ