وابستگی، تعلیمی قابلیت، ملازمت کی حیثیت، عمر، جنس اور مالیاتی حالات تک کا درست اندازہ لگا سکتی ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کے لیے اشتہار پر کلک کرنا بھی ضروری نہیں۔
تحقیق کا طریقہ کار اور نتائج
محققین نے ’آسٹریلین ایڈ آبزرویٹری‘ کے تعاون سے 891 صارفین کو دکھائے جانے والے 4 لاکھ 35 ہزار سے زائد فیس بک اشتہارات کا تجزیہ کیا ہے۔
ان ڈیٹا سیٹس کو بڑے لینگویج ماڈلز میں ڈالنے کے بعد نتائج حیران کن تھے، جس میں مختصر سیشنز ہی سے تفصیلی پروفائلز تیار کر لی گئیں۔
انسانی تجزیہ کاروں سے کہیں زیادہ تیز
یہ خودکار عمل انسانی تجزیہ کاروں کے مقابلے میں 200 گنا سستا اور 50 گنا زیادہ تیز ثابت ہوا ہے۔
یہ نظام اس لیے کامیاب ہے کیونکہ اشتہارات دکھانے والے پلیٹ فارمز صارف کے سابقہ رویے کی بنیاد پر اشتہارات کو بہتر بناتے ہیں، جس سے ایک ڈیجیٹل فٹ پرنٹ بن جاتا ہے جسے اے آئی آسانی سے پڑھ لیتی ہے۔
موجودہ سیکیورٹی اقدامات ناکام کیوں؟
بڑی ٹیک کمپنیاں حساس معاملات میں براہ راست ٹارگٹنگ کو محدود کرتی ہیں، مگر یہ خصوصیات بالواسطہ طور پر اشتہاری نمونوں میں چھپی ہوتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق عام براؤزر ایکسٹینشنز جیسے ایڈ بلاکرز اور ڈسکاؤنٹ فائنڈرز بھی پسِ پردہ ڈیٹا اکٹھا کر کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین براؤزر کی سیٹنگز اور اشتہاری سیٹنگز میں تبدیلی لا کر خطرات کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔