اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

آن لائن اشتہارات بغیر کلک کیے نجی معلومات تک رسائی کا ذریعہ بن گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آن لائن اشتہارات اور پرائیویسی کے خطرات کی علامتی تصویر
(فوٹو: العربیہ)

سائبر دنیا میں پرائیویسی کا تصور اب دن بہ دن خطرے میں پڑتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایک نئی تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ پر نظر آنے والے عام اشتہارات صرف مصنوعات ہی فروخت نہیں کر رہے، بلکہ یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو آپ کی حساس ذاتی تفصیلات تک رسائی فراہم کر کے آپ کا مکمل خاکہ تیار کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس محض اشتہارات کے تجزیے سے صارف کی سیاسی 

وابستگی، تعلیمی قابلیت، ملازمت کی حیثیت، عمر، جنس اور مالیاتی حالات تک کا درست اندازہ لگا سکتی ہے۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کے لیے اشتہار پر کلک کرنا بھی ضروری نہیں۔

تحقیق کا طریقہ کار اور نتائج

محققین نے ’آسٹریلین ایڈ آبزرویٹری‘ کے تعاون سے 891 صارفین کو دکھائے جانے والے 4 لاکھ 35 ہزار سے زائد فیس بک اشتہارات کا تجزیہ کیا ہے۔

ان ڈیٹا سیٹس کو بڑے لینگویج ماڈلز میں ڈالنے کے بعد نتائج حیران کن تھے، جس میں مختصر سیشنز ہی سے تفصیلی پروفائلز تیار کر لی گئیں۔

human like robot and artificial intelligence 2026 01 06 00 52 42 utc

انسانی تجزیہ کاروں سے کہیں زیادہ تیز

یہ خودکار عمل انسانی تجزیہ کاروں کے مقابلے میں 200 گنا سستا اور 50 گنا زیادہ تیز ثابت ہوا ہے۔

یہ نظام اس لیے کامیاب ہے کیونکہ اشتہارات دکھانے والے پلیٹ فارمز صارف کے سابقہ رویے کی بنیاد پر اشتہارات کو بہتر بناتے ہیں، جس سے ایک ڈیجیٹل فٹ پرنٹ بن جاتا ہے جسے اے آئی آسانی سے پڑھ لیتی ہے۔

موجودہ سیکیورٹی اقدامات ناکام کیوں؟

بڑی ٹیک کمپنیاں حساس معاملات میں براہ راست ٹارگٹنگ کو محدود کرتی ہیں، مگر یہ خصوصیات بالواسطہ طور پر اشتہاری نمونوں میں چھپی ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق عام براؤزر ایکسٹینشنز جیسے ایڈ بلاکرز اور ڈسکاؤنٹ فائنڈرز بھی پسِ پردہ ڈیٹا اکٹھا کر کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین براؤزر کی سیٹنگز اور اشتہاری سیٹنگز میں تبدیلی لا کر خطرات کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کے لیے اشتہار پر کلک کرنا بھی ضروری نہیں

تاہم یہ مسئلہ بنیادی طور پر اشتہاری نظام کے ڈھانچے میں موجود ہے، جس کے لیے انفرادی کوششوں کے بجائے پلیٹ فارمز کی سطح پر سخت حفاظتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں پرائیویسی صرف ایک تکنیکی انتخاب نہیں بلکہ ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
جب تک اشتہاری ماڈلز کی شفافیت اور ڈیٹا استعمال کو ریگولیٹ نہیں کیا جاتا، صارفین کا ڈیجیٹل پروفائل اے آئی کے لیے ایک کھلی کتاب کی طرح رہے گا۔