سوشل میڈیا اور آن لائن گیمز آج کل بالغ افراد کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بظاہر یہ پلیٹ فارمز رابطے، تفریح اور ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ دکھائی دیتے ہیں، مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ انہی ذرائع کا حد سے زیادہ استعمال بالغ افراد میں ایک سنجیدہ نفسیاتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ نہ صرف کام اور سماجی و خاندانی تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ مسلسل آن لائن رہنے کے باوجود تنہائی کے احساس کو بھی گہرا کر رہا ہے۔
تحقیق کا پس منظر
سنگاپور میں جیمز کُک یونیورسٹی (James Cook University – JCU) کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں بالغ افراد میں سوشل میڈیا کے استعمال اور آن لائن گیمنگ کی لت کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ تحقیق نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر پیٹر چو کی قیادت میں کی گئی، جس کے نتائج معروف سائنسی جریدے International Journal of Social Psychiatry میں شائع ہوئے ہیں۔
بعد ازاں اس تحقیق کی تفصیلات طبی و سائنسی ویب سائٹ Medical Express کے ذریعے بھی سامنے آئی ہیں۔
بالغوں اور نوعمر افراد
تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل لت کے اسباب عمر کے ساتھ نمایاں طور پر بدل جاتے ہیں۔ ماضی کی کئی تحقیقات یہ ظاہر کر چکی ہیں کہ بلوغت کی طرف بڑھتے صارفین میں سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی بڑی وجہ اضطراب اور بے چینی ہوتی ہے، تاہم JCU کی نئی تحقیق نے واضح کیا کہ بالغ افراد میں ڈیجیٹل لت کے محرکات زیادہ تر اندرونی نفسیاتی عوامل سے جڑے ہوتے ہیں۔
ڈپریشن اور جذباتی اتار چڑھاؤ
پروفیسر پیٹر چو کے مطابق بالغ افراد میں سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال اکثر ڈپریشن، اداسی اور جذباتی عدم استحکام سے جڑا ہوتا ہے۔
ایسے افراد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ایک قسم کے نفسیاتی فرار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جہاں وہ وقتی طور پر اپنے جذباتی مسائل سے توجہ ہٹا سکیں، لیکن یہ عادت وقت کے ساتھ استعمال کو بڑھا دیتی ہے، جس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
آن لائن گیمز اور بالغ ذہن
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ انٹرنیٹ گیمنگ ڈس آرڈر کے شکار بالغ افراد اپنا زیادہ وقت ورچوئل دنیا میں گزارتے ہیں، جس کے نتیجے میں:
• روزمرہ ذمہ داریاں متاثر ہوتی ہیں۔
• کام کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔
• حقیقی سماجی تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں۔
اگرچہ گیمز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلسل رابطہ موجود ہوتا ہے، مگر تحقیق اسے حقیقی سماجی تعلقات کا متبادل قرار نہیں دیتی۔
تنہائی کی بڑھتی خلیج
تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل لت کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ مسلسل آن لائن رہنے کے باوجود افراد خود کو زیادہ تنہا محسوس کرتے ہیں۔
پروفیسر چو کے مطابق سوشل میڈیا اور گیمز کے ذریعے بننے والی دوستیاں اکثر سطحی ہوتی ہیں، جو جذباتی تعاون فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اسی لیے محققین نے اس کیفیت کو ’تنہائی کی خلیج‘ کا نام دیا ہے، جہاں رابطہ بڑھنے کے باوجود قربت کم ہو جاتی ہے۔
علاج کا درست طریقہ
مطالعے کے مطابق سوشل میڈیا کی لت کے علاج کے لیے ایسے طریقے اختیار کرنا ضروری ہیں جو جذباتی نظم و ضبط کو بہتر بنائیں۔ تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ:
• جذبات کو سمجھنے اور سنبھالنے کی تربیت دی جائے۔
• ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نفسیاتی فرار کے طور پر استعمال کرنے کی عادت کم کی جائے۔
• متبادل سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو ذہنی سکون فراہم کریں۔
احساس ذمہ داری اور احترام کی کمی
آن لائن گیمز کی لت کے معاملے میں تحقیق نے کچھ دیگر اور مختلف عوامل کی نشاندہی بھی کی ہے، جس کے نتائج کے مطابق گیمنگ کی لت ان افراد میں زیادہ پائی جاتی ہے جن میں:
• احساسِ ذمہ داری کم ہو۔
• دوسروں کے احترام اور سماجی حدود کی کمی ہو۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے پروگرام ترتیب دیے جائیں جو ذمہ داری، نظم و ضبط اور دوسروں کے احترام جیسی اقدار کو فروغ دیں، تو انٹرنیٹ گیمنگ ڈس آرڈر کے خطرات نمایاں طور پر کم ہو سکتے ہیں۔
احتیاطی اقدامات
تحقیق میں بعض نفسیاتی اور انتباہی علامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جنہیں بروقت پہچان لیا جائے تو مکمل لت سے بچاؤ ممکن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت اور درست نوعیت کی مداخلت:
• علاج کو مؤثر بناتی ہے۔
• طویل المدتی نفسیاتی نقصانات سے بچاتی ہے۔
• سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی کو بحال رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
توازن ضروری ہے
JCU کی یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ بالغ افراد میں ڈیجیٹل لت ایک پیچیدہ نفسیاتی مسئلہ بن چکی ہے، جسے یکساں حل سے قابو میں نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا اور آن لائن گیمز دونوں کے لیے مخصوص، ہدف بنا کر اور نفسیاتی بنیادوں پر مبنی علاج ضروری ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مکمل دُوری اس سنگین مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس کا متوازن اور شعوری استعمال ہی ذہنی صحت اور سماجی تعلقات کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔