ایک نئی سائنسی تحقیق میں انتباہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی موجودہ آبادی، جو 8.3 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے، زمین کی طبعی صلاحیت سے تجاوز کر گئی ہے۔
مزید پڑھیں
زمین کی صلاحیتِ برداشت سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی وسائل کا بے دریغ استعمال کرہ ارض کے قدرتی استحکام کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
ماحولیاتی سائنس میں ’کیرینگ کیپیسٹی‘ (صلاحیتِ برداشت) سے مراد وسائل کی وہ مقدار ہے جو کسی بھی نوع کی بقا کے لیے درکار ہوتی ہے۔
انسانوں نے ٹیکنالوجی اور خاص طور پر فوسل فیولز (آئل، گیس، کوئلہ) کے بل بوتے پر قدرت کی ان حدود کو مصنوعی طور پر عبور کیا ہے۔
یہ اصطلاح انیسویں صدی کے آخر میں بحری جہازوں کے لیے وضع کی گئی تھی، جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ایک جہاز ایندھن اور عملے کو متاثر کیے بغیر کتنا سامان اٹھا سکتا ہے۔
آج انسانیت اسی فارمولے کو پوری زمین پر لاگو کر کے وسائل کو ختم کر رہی ہے۔
یونیورسٹی آف فلینڈرز کے محقق کوری بریڈ شا اور ان کی ٹیم نے 2 صدیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج کی معیشتیں مسلسل ترقی کے خبط میں مبتلا ہیں اور یہ حقیقت نظر انداز کر رہی ہیں کہ فوسل فیولز نے وسائل کی کمی کو وقتی طور پر چھپا رکھا ہے۔
تحقیق کے مطابق انسانیت دو طرح کی صلاحیتوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
ایک ’زیادہ سے زیادہ صلاحیت‘جو نظریاتی طور پر انسانی بقا کی آخری حد ہے اور دوسری ’مثالی صلاحیت‘، جہاں وسائل کا استعمال پائیدار اور متوازن ہو۔
فی الحال ہم مثالی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔
آبادی میں اضافے کا منفی رجحان
اگرچہ 60 کی دہائی سے آبادی میں اضافے کی شرح سست ہوئی، تاہم کل تعداد بڑھ رہی ہے۔
محققین کے مطابق ہم ایک ’منفی ڈیموگرافک مرحلے‘میں داخل ہو چکے ہیں۔ موجودہ رجحانات برقرار رہے تو اس صدی کے آخر تک آبادی 12 ارب کے قریب پہنچ کر عروج پر ہوگی۔
تاہم بریڈ شا کی تحقیق کے مطابق زمین کے وسائل کا موجودہ مصرف صرف 2.5 ارب انسانوں کے لیے ہی پائیدار ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ 8.3 ارب کی آبادی پہلے ہی زمین پر بہت بڑا دباؤ ڈال رہی ہے، جس کے اثرات اب پانی کی قلت اور حیاتیاتی تنوع کے خاتمے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
وسائل کا بحران اور مستقبل کا چیلنج
اقوام متحدہ پہلے ہی پانی کے عالمی بحران (واٹر بینک کرپٹسی) کا خدشہ ظاہر کر چکی ہے۔
فوسل فیولز پر انحصار نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن رہا ہے بلکہ یہ قدرتی نظاموں کو بھی درہم برہم کر رہا ہے۔ زمین اب انسانی طلب کو پورا کرنے کی سکت کھو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وسائل کی بڑھتی ہوئی قلت مستقبل میں عدم استحکام کا باعث بنے گی۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ابھی وقت ختم نہیں ہوا ہے۔ اگر ممالک مل کر اپنے سماجی، ثقافتی اور معاشی طور طریقوں میں بنیادی تبدیلیاں لائیں تو کرہ ارض کو بچایا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ انسانیت نے قدرت کے اصلاحی نظام کو تباہ کر دیا ہے، مگر اس کے متبادل کوئی پائیدار نظام قائم نہیں کیا۔
اب انسان کے لیے بقا کا واحد راستہ آبادی میں اعتدال اور وسائل کے استعمال میں کمی ہی ہے، بصورت دیگر ماحولیاتی تباہی ناگزیر ہے۔