اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

جنگ خاتمے کے قریب، ایک صفحے کا معاہدہ تیار، فیصلہ 48 گھنٹوں میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران معاہدہ
ایران افزودگی روکنے پر آمادہ، امریکا پابندیاں ہٹانے پر تیار

امریکی ویب سائٹ Axios نے آج بدھ کے روز رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک صفحے پر مشتمل ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کا مقصد جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔

 رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو تہران کے جواب کا انتظار ہے، جو اگلے 48 گھنٹوں میں متوقع ہے، اگرچہ ابھی تک حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تاہم دونوں ممالک پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا، ایران سے چند اہم نکات پر جواب کا منتظر ہے، جن میں ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا عہد شامل ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکا ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا خاتمہ کرے گا۔ 

اس مجوزہ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی بھی شامل ہوگی۔

مزید پڑھیں

ابتدائی مسودے کے مطابق یہ معاہدہ جنگ کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کرے گا اور اس کے ساتھ ہی 30 دن کی مدت پر مشتمل تفصیلی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ 

ذرائع کے مطابق اس وقت سب سے اہم بحث اس بات پر جاری ہے کہ ایران کتنے عرصے کے لیے افزودگی روکنے پر آمادہ ہوگا، جس کی مدت کم از کم 12 سال تک ہو سکتی ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس معاہدے میں ایک شق شامل کی گئی ہے، جس کے تحت اگر ایران دوبارہ افزودگی کی سطح بڑھاتا ہے تو اس پابندی کی مدت میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

46465 1
30 دن کے مزید مذاکرات کا فریم ورک

اس کے علاوہ ایران کو ایک سخت اور جدید معائنہ نظام کے تحت لایا جائے گا جبکہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائے گا۔

ذرائع کے مطابق ایران نے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ اسے امریکا منتقل کرنا بھی زیر غور آپشنز میں شامل ہے۔

دوسری جانب اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر اب تک صرف ایک ہی براہِ راست مذاکراتی دور منعقد ہو سکا ہے، جبکہ دیگر ملاقاتوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ 

اس دوران چین نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایران صرف منصفانہ اور جامع معاہدہ قبول کرے گا اور اپنے قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔

پروجیکٹ فریڈم معطل
ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم منتقل کرنے پر تیار (فوٹو: العربیہ)

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس عمل میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے تاہم ساتھ ہی یہ واضح کیا ہے کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ 

انہوں نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان بھی کیا تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کا موقع دیا جا سکے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عملاً بند ہے جس سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل متاثر ہوئی ہے اور توانائی کا عالمی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔