یورپی یونین کے توانائی کمشنر ڈین یورگنسن نے عالمی توانائی منڈی کے مستقبل کی ایک نہایت مایوس کن تصویر پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صورتحال ’بہترین حالات میں بھی صورتحال بہت خراب‘ رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صرف 6 ہفتوں کے اندر ہوائی جہازوں کے ایندھن کی شدید قلت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ مائع قدرتی گیس LNG کی قیمتیں آئندہ دو سال تک مستحکم یا کم ہونے کا امکان نہیں۔
اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث یورپی یونین پر اضافی لاگت کا بوجھ تقریباً 24 ارب یورو تک پہنچ چکا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ براہِ راست تصادم کے نتائج پر فکرمند ہے، جس کے اثرات فوجی میدان سے آگے بڑھ کر یورپ کی معیشت اور سپلائی چینز کو متاثر کر رہے ہیں۔
اضافی اخراجات میں مسلسل اضافہ اور اسٹریٹیجک ذخائر میں کمی کے باعث ایک ابتدائی ’فضائی جمود‘ کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں، جو بڑی
ایئرلائنز کو پروازیں روکنے پر مجبور کر سکتی ہے اور عالمی معیشت کو دہائیوں کے سب سے بڑے امتحان میں ڈال سکتی ہے۔
مصر کے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر کریم عادل نے کہا کہ اہم سمندری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں خلل ایک بے مثال چیلنج ہے، جس کے اثرات عالمی فضائی سفر تک پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے، جو مشرق وسطیٰ کی 86 فیصد تیل برآمدات کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ دنیا کی 25 فیصد ایل این جی ضروریات بھی اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔
اس راستے کی بندش عالمی تیل کی ترسیل کے 20 فیصد حصے کو فوری متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات 23 یورپی اور ایشیائی ممالک تک پہنچیں گے۔
معاشی تباہی کا خدشہ
ماہرین نے خبردار کیا کہ ہوائی جہاز کے ایندھن کی قلت ٹکٹوں اور کارگو کرایوں میں شدید اضافہ کرے گی، حتیٰ کہ فضائی آپریشنز مکمل طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے معاشی ترقی میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ اور سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
فوجی ماہر یاسین طاہر نے اس بحران کو ایران-امریکہ تنازع کے اثرات کی واضح مثال قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ یورپ اپنی 30 سے 40 فیصد فضائی ایندھن کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث اسٹریٹیجک ذخائر میں شدید کمی آ چکی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو عالمی سیاحت کی صنعت کو شدید دھچکا لگے گا، جس کے اثرات کئی معیشتوں پر پڑیں گے۔
ماہرین کے مطابق دنیا ’زبردستی سکڑاؤ‘ forced contraction کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں توانائی کا بحران صرف قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ فراہمی اور بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔
آخر میں انہوں نے دیا کہ عالمی معیشت کو بچانے کے لیے بین الاقوامی بحری راستوں کا تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے۔
لوفتہانزا کا بحران
دوسری جانب جرمن ایئرلائن گروپ لوفتہانزا گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے موسمِ گرما کے شیڈول میں بڑی کمی کرے گا، جس کے تحت اکتوبر کے اختتام تک تقریباً 20 ہزار مختصر فاصلے کی پروازیں منسوخ کی جائیں گی۔
کمپنی نے بتایا کہ وہ روزانہ تقریباً 120 غیر منافع بخش پروازیں بند کرے گی، خاص طور پر یورپ کے اندر مختصر روٹس پر اور اس اقدام سے 40 ہزار میٹرک ٹن سے زائد کیروسین بچانے کی توقع ہے۔
لوفتہانزا کے مطابق ایران کے ساتھ فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد ایندھن کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں، جس سے کئی پروازیں معاشی طور پر غیر موزوں ہو گئی ہیں۔
یہ بحران صرف لوفتہانزا تک محدود نہیں بلکہ عالمی ہوا بازی کی صنعت کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ توانائی ایجنسیاں یورپ میں ایندھن کی قلت کے خدشات ظاہر کر چکی ہیں، جس کے باعث دیگر ایئرلائنز بھی اپنے شیڈول پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
توقع ہے کہ اس بحران کے باعث گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران لاکھوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ اور پروازوں کی ازسرِ نو ترتیب بھی ممکن ہے۔