مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی تیل بحران کے اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ترسیل میں رکاوٹ کے نتیجے میں تیل کی بڑی مقدار کے ضائع ہونے اور اسٹریٹجک ذخائر کے تیزی سے ختم ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تیل کی تجارت سے وابستہ کمپنیوں کے اندازوں کے مطابق عالمی سپلائی سے پہلے ہی 600 سے 700 ملین بیرل تیل کم ہو چکا ہے، جبکہ خدشہ ہے کہ یہ خسارہ ایک ارب بیرل تک پہنچ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کو نہ صرف فوری قلت کا سامنا ہے بلکہ اس کے اثرات جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو مجموعی نقصان 1.5 ارب بیرل تک پہنچ سکتا ہے، جس سے عالمی ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں اور اس کمی کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب تیل کی موجودہ قیمتیں، جو تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں (جبکہ پہلے 120 ڈالر تک جا چکی تھیں)، اس بحران کی مکمل شدت کو ظاہر نہیں کر رہیں۔
بظاہر مارکیٹ اس امید پر ہے کہ بحران جلد ختم ہو جائے گا، بغیر اس بات کو مدنظر رکھے کہ سپلائی کی بحالی میں کتنا وقت لگے گا۔
یہ صورتحال انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی ان وارننگز سے بھی مطابقت رکھتی ہے جن میں اسے تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران قرار دیا گیا، خاص طور پر اس لیے کہ یہ روس، یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والے گیس بحران کے ساتھ بیک وقت جاری ہے۔
اس کی بڑی وجہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، کی بندش یا تعطل ہے، جہاں سے عالمی تیل اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اس وقت عالمی منڈیاں تقریباً 2.5 ارب بیرل کے اسٹریٹجک ذخائر پر انحصار کر رہی ہیں تاہم موجودہ خسارہ ان ذخائر کے بڑے حصے کے برابر ہو چکا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ یہ ذخائر کب تک اس بحران کا مقابلہ کر سکیں گے۔
اسی تناظر میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا منصوبہ منظور کیا ہے، جس میں سے 172 ملین بیرل امریکہ کے ذخائر سے نکالے جائیں گے، تاکہ سپلائی میں کمی کو کسی حد تک پورا کیا جا سکے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف ممالک کے ذخائر میں واضح فرق ہے، چین کے پاس ایک ارب بیرل سے زائد ذخیرہ موجود ہے، اس کے بعد امریکہ اور جاپان کا نمبر آتا ہے جبکہ دیگر ممالک کے پاس نسبتاً کم ذخائر ہیں۔
ایشیا، جو عالمی طلب کا سب سے بڑا مرکز ہے، وہاں متبادل ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں، خاص طور پر روسی اور ایرانی تیل کی فراہمی میں کمی اور ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث۔
اس تناظر میں بھارت سب سے زیادہ متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کا انحصار خلیجی تیل پر زیادہ ہے اور اسے ترسیل کے خطرات اور پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، جس سے مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب چین، اگرچہ بڑے ذخائر رکھتا ہے مگر سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کے باعث اس نے پہلے ہی ریفائنری سرگرمیاں کم کرنا شروع کر دی ہیں۔