اہم خبریں
21 April, 2026
--:--:--

مملکت کا ایران امریکا تنازع میں ثالثی کی پاکستانی کوششوں کی حمایت کا اعلان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے اور خطے میں استحکام کے لیے سعودی سفارت کاری متوازی بنیادوں پر متحرک ہے۔

مزید پڑھیں

اس کا مقصد ایران کی جانب سے مملکت اور خلیج تعاون کونسل کے خلاف کسی بھی ممکنہ جارحیت کا راستہ روک کر مستقل امن کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی قیادت پاکستان کی زیر نگرانی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ 

اگرچہ سعودی عرب براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں، تاہم اس کے 

قومی مفادات اور سلامتی فریقین اور پاکستانی ثالث کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریاض، واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب علاقائی تصفیے میں مرکزی کردار رکھتا ہے۔ 

اس پوری صورت حال میں تمام فریقین کسی بھی مستقل اور عملی معاہدے کے لیے سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق سعودی عرب کی اہم ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنا شامل ہے تاکہ جہاز رانی کی سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔ 

اس اقدام سے خام تیل اور گیس کی برآمدات سمیت خلیجی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی تجارت کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے گا۔

دریں اثنا مملکت لبنان میں جنگ بندی اور وہاں امن و استحکام کے لیے بھی پس پردہ کام کر رہی ہے۔ 

خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق سعودی عرب لبنانی ریاست کی خود مختاری، اسرائیلی افواج کے انخلا، پناہ گزینوں کی واپسی اور اسلحہ صرف ریاست اور فوج کے پاس رکھنے کی حامی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 15 اپریل 2026 کو جدہ میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جو پاکستانی ثالثی کے لیے براہ راست سعودی حمایت ہے۔

اُدھر اسلام آباد میں سعودی عرب، پاکستان، مصر اور ترکی کے درمیان ہونے والا چار فریقی مشاورتی اجلاس علاقائی ہم آہنگی کی بڑی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ اجلاس ظاہر کرتا ہے کہ خطے کے اہم ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتے ہیں۔

پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ تہران اور اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں ایک نئے سیاسی ڈھانچے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ 

ان کوششوں کا مقصد صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاہدے کے لیے زمین ہموار کرنا ہے جو پائیدار ہو۔

ریاض حکومت کا موقف ہے کہ پائیدار امن کے لیے ایران کے ساتھ مسلح حملوں اور ملیشیاؤں جیسے سنگین مسائل پر واضح بات چیت ضروری ہے۔ 

خطے کی صورت حال کے تناظر میں سعودی وزارت خارجہ نے زور دیا ہے کہ سفارتی کوششوں میں ان تمام عوامل کو حل کیا جائے جنہوں نے دہائیوں سے علاقائی امن تباہ کیا۔