امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول فٹبال ورلڈکپ کے آغاز سے قبل میکسیکو کے شہر تیجوانا میں ایرانی ٹیم کے تربیتی کیمپ کو غیر معمولی سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے ایک فوجی چھاؤنی کی شکل دے دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے میکسیکن میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی ٹیم کی رہائش گاہ کے گرد میکسیکو کی فوج اور نیشنل گارڈ کے 300 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹورنامنٹ میں شریک کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سیکیورٹی حصار ہے۔
میکسیکن حکام کا کہنا ہے کہ ان سخت حفاظتی اقدامات کا مقصد
موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگی کے پیش نظر ایرانی وفد کی حفاظت کو یقینی بنانا اور کیمپ کو کسی بھی ممکنہ تخریبی کارروائی یا ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ورلڈکپ کے دوران سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
حال ہی میں انگلینڈ کے کیمپ کے قریب فائرنگ اور سوئٹزرلینڈ کی ٹیم کی رہائش گاہ کے پاس آگ لگنے جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں، جس نے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی ٹیم نے پہلے امریکی ریاست ایریزونا میں قیام کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم واشنگٹن کی پابندیوں اور ویزا مسائل کی وجہ سے اب وہ سرحد پر واقع تیجوانا میں قیام کرے گی۔
ایرانی ٹیم اپنے میچز کھیلنے کے لیے امریکہ جائے گی اور میچ کے بعد واپس میکسیکو آئے گی۔
یاد رہے کہ ایران ساتویں بار ورلڈ کپ کھیل رہا ہے۔ اس سے قبل وہ 1978، 1998، 2006، 2014، 2018 اور 2022 کے مقابلوں میں شرکت کر چکا ہے۔
تاہم ایرانی ٹیم اب تک کسی بھی ایونٹ میں پہلے راؤنڈ سے آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
ورلڈ کپ 2026 کے لیے ایران کو گروپ جی میں مصر، بیلجیم اور نیوزی لینڈ کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ایرانی ٹیم اپنی مہم کا آغاز نیوزی لینڈ کے خلاف کرے گی، جس کے بعد اس کا مقابلہ بیلجیم اور پھر مصر سے ہوگا۔