وال اسٹریٹ پر عالمی سرمایہ کاری کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹس کے مطابق ارب پتی ایلون مسک کی زیرِ قیادت خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ’اسپیس ایکس‘اپنے حصص 12 جون کو نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں متعارف کروانے جا رہی ہے۔
تجزیہ کار اسے تاریخ کی سب سے بڑی شیئر ہولڈنگ پیشکش (IPO) قرار دے رہے ہیں۔
اس آئی پی او کے تحت کمپنی 135 ڈالر فی حصص کی قیمت پر تقریباً
555.6 ملین شیئرز فروخت کریگی، جس سے کمپنی کی مجموعی ویلیو تقریباً 75 ارب ڈالرتک پہنچنے کی توقع ہے۔
’فنانشل ٹائمز‘ کے مطابق اسپیس ایکس کا ہدف اپنی مارکیٹ ویلیو کو 1.78 ٹریلین ڈالر تک پہنچانا ہے، جس کے بعد یہ دنیا کی ساتویں سب سے بڑی کمپنی بن جائے گی۔
اس پیشکش کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جو بڑے آئی پی او کے معیارات کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔
حصص کی خریداری کا طریقہ
اسپیس ایکس کے حصص کا اندراج نیس ڈیک (Nasdaq) ٹیکنالوجی انڈیکس میں کیا جائے گا۔ یعنی سرمایہ کار انہیں براہِ راست اسٹاک مارکیٹ سے نہیں بلکہ منظور شدہ بروکرز کے ذریعے خرید سکیں گے۔
- برطانیہ: ’اے جے بیل‘ (AJ Bell) اور ’ہارگریوز لانس ڈاؤن‘ (Hargreaves Lansdown) جیسی کمپنیاں اس عمل میں سہولت فراہم کریں گی۔
- امریکہ: فیڈلیٹی (Fidelity)، چارلس شواب (Charles Schwab)، روبن ہڈ (Robinhood)، سوفی ٹیکنالوجی (SoFi) اور مورگن سٹینلے (Morgan Stanley) کا آئی ٹریڈ (E*TRADE) اس عمل کا حصہ ہیں۔
علاوہ ازیں انڈیکس فنڈز کے ذریعے عام انویسٹر بلاواسطہ طور پر بھی کمپنی کے حصص کے مالک بن سکیں گے۔
کیا شیئر ہولڈرز ایلون مسک کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں گے؟
اس کا مختصر جواب ہے: نہیں۔ حصص کی خریداری کے باوجود کمپنی پر ایلون مسک کا کنٹرول ناقابلِ تسخیر رہے گا، جس کے لیے کمپنی نے 2 قسم کے حصص متعارف کروائے ہیں:
- جس میں ہر حصص کے ساتھ ایک ووٹ کا حق ہے۔
- جس میں ہر حصص کے ساتھ 10 ووٹوں کا حق ہے۔
مسک نمبر 2کے حصص کی اکثریت کے مالک ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے پاس 82.4 فیصد ووٹنگ پاور ہے۔
اس کے علاوہ کمپنی کے چارٹر میں یہ واضح درج ہے کہ انہیں چیف ایگزیکٹو یا چیئرمین کے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا، سوائے اس کے کہ نمبر 2 کے شیئر ہولڈرز خود ایسا چاہیں۔
یہ قانونی تحفظات مسک کو کمپنی کا مطلق العنان فیصلہ ساز بناتے ہیں۔
امریکی حکومت اور اسپیس ایکس کا گٹھ جوڑ
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس اس وقت امریکی حکومت کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی پارٹنر بن چکی ہے۔
2025 میں کمپنی نے حکومتی اداروں سے 4 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی تھی، جس میں پینٹاگون (وزارتِ دفاع) کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدے سرِفہرست ہیں۔
ایلون مسک نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کی کمپنی اب امریکی قومی سلامتی کا ایک ’کلیدی عنصر‘ بن چکی ہے۔
’اسٹارشیلڈ‘ (Starshield) نامی فوجی سیٹلائٹ نیٹ ورک اور خفیہ انٹیلیجنس پروجیکٹس میں اسپیس ایکس کا کردار اسے مستقبل کے امریکی دفاعی منصوبوں کا مرکز بناتا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثرات
اسپیس ایکس کا آئی پی او محض ایک شروعات ہے۔ 2026 میں ’اوپن اے آئی‘اور ’انتھروپک‘ جیسی مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں بھی اپنے حصص مارکیٹ میں لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ان تینوں کمپنیوں کی مجموعی ویلیو 4 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کا ایک ساتھ مارکیٹ میں آنا اسٹاک مارکیٹ پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر اس خدشے کے پیشِ نظر کہ آیا اے آئی سیکٹر اتنے منافع بخش ثابت ہوں گے جتنے سرمایہ کار توقع کر رہے ہیں۔
کیا اسپیس ایکس میں سرمایہ کاری مناسب ہے؟
سرمایہ کاروں کی اسپیس ایکس میں پیسہ لگانے سے متعلق رائے منقسم ہے۔
کچھ تجزیہ کار جہاں ’اسٹار شپ‘ سسٹم اور دفاعی معاہدوں کی وجہ سے اس کمپنی میں ترقی کے وسیع امکانات دیکھتے ہیں، وہیں ماہرینِ مالیات خبردار بھی کر رہے ہیں۔
’گارڈین‘ کے فنانشل ایڈیٹر نیلز براتلی کے مطابق 2025 میں اسپیس ایکس نے 18.7 ارب ڈالر کی فروخت کے باوجود 4.9 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ ہے کہ وہ کمپنی کی ظاہری چمک دمک کے بجائے اس کے مالیاتی گوشواروں کو دیکھیں۔
اگرچہ حکومتی معاہدے اسے دیوالیہ ہونے سے بچا سکتے ہیں، لیکن اسٹاک مارکیٹ میں اس کے حصص کی قیمت کو اپنی اصل صلاحیت سے کہیں زیادہ بلند دکھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا قوی امکان موجود ہے۔