مشرقی وسطیٰ میں عسکری کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ ہی، علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی اقدامات بھی تیز ہو گئے ہیں تاکہ بحران کو قابو میں لایا جا سکے جبکہ اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان کی قیادت میں کل اتوار کو 4 رکنی اجلاس ہوگا جس میں علاقائی فریق شریک ہوں گے، اسی دوران عسکری کارروائیاں جاری ہیں اور تنازع کے متعدد محاذ کھلے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا اور اس مقصد تصادم میں کمی لانا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستانی کردار نمایاں ہے کیونکہ یہ ایک اہم ثالثی چینل کے طور پر سامنے آیا ہے حالانکہ اس بات پر اختلاف ہے کہ اس اقدام کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں اور فریقین حقیقی مذاکرات میں شامل ہونے کے کتنے تیار ہیں۔
کامیابی کے امکانات
سیکیورٹی اور عسکری حکمت عملی کے ماہر رچرڈ وائٹس کے مطابق، پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان اچھا ثالث ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام آباد، امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ کشیدگی کا شکار رہا ہے، لیکن عمومی طور پر دونوں حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے، جو اسے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
وائٹس نے الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ حالات ڈپلومیسی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے موزوں ماحول فراہم کریں گے، جبکہ کوششیں جاری ہیں کہ پاکستان اور علاقائی فریقوں کے ذریعے دونوں جانب پیغامات پہنچائے جائیں۔
کامیابی کے امکانات کے بارے میں وائٹس نے کہا کہ مذاکرات کے لیے مواقع موجود ہیں اور اگر مسائل پر اتفاق ہو جائے تو یہ ایک قابل عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ اور ایرانی فریق کے درمیان پیش کردہ نکات میں کچھ اوورلیپ موجود ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ دونوں جانب ترجیحات مختلف ہیں، خاص طور پر ہرمز کے خلیج جیسے معاملات میں، جس کے لیے مفاہمت ضروری ہے۔
فریقین کی مذاکرات کے لیے تیاری
فریقین کی تیاری کے حوالے سے وائٹس نے زور دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مذاکراتی عمل کے بارے میں سنجیدہ ہے اور جاری عسکری کارروائیاں ایران کو مذاکراتی عمل میں لانے کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایرانیات کے ماہر استاد علی صالح نے اس بات کا مختلف تجزیہ پیش کیا، انہوں نے کہا کہ امریکی سنجیدہ نہیں تھے اور ان کا سفارتی رویہ مخلص نہیں تھا۔
مزید کہا کہ انہوں نے جنگ کو ڈپلومیسی کے طور پر استعمال کیا۔
صالح کے مطابق واشنگٹن کی موجودہ شرائط ’ناممکن شرائط‘ ہیں، یہ سفارتی شرائط نہیں اور تہران پہلے بھی ایسی پیشکشیں مسترد کر چکا ہے۔
اسی سلسلے میں، وائٹس نے دونوں جانب اعتماد کے بحران کا اعتراف کیا، کہا کہ اعتماد کی کمی دونوں طرف ہے، لیکن ساتھ ہی وضاحت کی کہ یہ معاہدے کے حصول میں رکاوٹ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ چل سکتا ہے، اور یہ تضاد کی حالت نہیں، بلکہ یہ متعدد تنازعات میں ایک معمول کی صورت ہے، جہاں بات چیت جاری رہتی ہے جبکہ لڑائی بھی جاری ہوتی ہے۔
اسرائیل اور اسٹریٹجک حسابات
اسرائیل کے امور کے ماہر محمد ہلسہ کے مطابق، اسرائیل جنگ کے دائرے کو بڑھانے کے آپشن کی طرف مائل ہے، جس کی بنیاد میدان میں اور سیاسی اشاروں پر ہے جو اس رجحان کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ تل ابیب سمجھتا ہے کہ جنگ جاری ہے اور پھیل رہی ہے، اور نئے فریق کے شامل ہونے سے اس کے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکی حمایت کے جاری رہنے پر انحصار کر رہا ہے، اگرچہ کچھ اشارے ایسے ہیں جو اسے سفارتی عمل کی طرف رجحان کے حوالے سے تشویش میں ڈال سکتے ہیں۔
مزید کہا کہ تصادم میں شدت، بشمول شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے اور حوثیوں جیسے فریقین کے شامل ہونے سے، اسرائیل کو اس بات پر قائل کرتا ہے کہ کھلی جنگ کا طریقہ سب سے موزوں انتخاب ہے۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے حوالے سے، وائٹس نے کہا کہ مذاکرات کے دوران اختلافات واضح ہو سکتے ہیں، اگرچہ عسکری سطح پر دونوں کے درمیان قریبی رابطہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اختلافات اس بات سے متعلق ہو سکتے ہیں کہ تصادم کو کس طرح منظم کیا جائے یا مذاکراتی عمل کی طرف کب منتقل ہونا ہے، خاص طور پر جب کشیدگی بڑھ رہی ہو اور نئے محاذ کھل رہے ہوں۔