پاکستان نے آج ہفتہ کے روز اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کل اتوار اور پیر کو اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر غور کرنے کے لیے 4 فریقی اجلاس منعقد ہوگا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے، جس کا مقصد مختلف امور پر گہرے مذاکرات کرنا ہے، جن میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
مقام اور شیڈول
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اجلاس پہلے ترکی میں ہونا تھا تاہم شیڈول کی پابندیوں کے باعث انہوں نے وفود کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جاری تنازعات کے حل کے لیے خلوص اور سنجیدگی سے کام کر رہا ہے اور اسے دوست ممالک کی مضبوط حمایت حاصل ہے، جبکہ یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں لیکن ان کی حساس نوعیت کے باعث حکام عوامی بیانات دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
اسحاق ڈار کے مطابق چاروں وزرائے خارجہ پیر کے روز وزیر اعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ایک گھنٹے پر محیط ٹیلیفونک رابطہ
اسی تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک گھنٹے طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں علاقائی کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان کے مطابق پزشکیان نے مذاکرات کے لیے ’اعتماد سازی‘ کی ضرورت پر زور دیا اور امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات
ادھر اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز تصدیق کی تھی کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کر رہا ہے اور 28 فروری سے جاری مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفول نے جمعہ کے روز اشارہ دیا کہ امریکہ اور ایران پاکستان میں براہِ راست مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔
اگرچہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتا ہے تاہم ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے 15 نکاتی امریکی منصوبے پر باضابطہ ردعمل بھی پیش کیا ہے۔