آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک ایسی تاریخی مثال قائم کر دی ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مزید پڑھیں
1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ اور ’ٹینکوں کی جنگ‘ (Tanker War) کے دوران بھی یہ حساس بحری راستہ اس طرح مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا جیسا کہ آج ہے۔
آج اس بندش کا مطلب دنیا کی پانچواں حصہ (20 فیصد) تیل اور مائع گیس (LNG) کی رسد کا رک جانا ہے، جس نے عالمی معیشت کو ایک ایسے خوفناک کساد بازاری (Recession) کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے
جہاں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے قریب ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
ماضی کے بحرانوں سے موازنہ
موجودہ بحران اپنی شدت میں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ چکا ہے۔
1973 میں جب عرب ممالک نے تیل کی فراہمی روکی تھی تو عالمی رسد میں صرف 7 فیصد کی کمی آئی تھی، مگر اس کا اثر اتنا بڑا تھا کہ ’بین الاقوامی توانائی ایجنسی‘(IEA) کا قیام عمل میں آیا۔
اسی طرح 1979 کے ایرانی انقلاب کے وقت یہ کمی محض 4 فیصد تھی۔
آج ہم 20 فیصد رسد کے تعطل کے خطرے سے دوچار ہیں اور تمام متبادل راستوں کے باوجود مارکیٹ میں 7 سے 10 فیصد کا مستقل خسارہ موجود ہے جو عالمی نظامِ توانائی پر نظرثانی کا تقاضا کر رہا ہے۔
کنوؤں کی بندش، ڈراؤنا خواب
اس جنگ میں اصل خطرہ اب ’اسٹوریج ٹینکوں‘ کو لاحق ہے۔
جب آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو ممالک تیل ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن جب ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے تو فیصلہ سازوں کے پاس واحد راستہ ’کنویں بند کرنا‘ ہی بچتا ہے۔
یہ ایک معاشی اور تکنیکی تباہی ہے، کیونکہ بند کیے گئے کنوؤں سے دوبارہ اسی رفتار سے پیداوار حاصل کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے اسٹوریج ٹینکوں کو نشانہ بنانا تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔
عالمی کھلاڑی: کس نے کیا کھویا، کیا پایا؟
اس وقت عالمی بساط پر مختلف ممالک کی پوزیشن کچھ یوں ہے:
- چین (اسٹریٹیجک کھلاڑی): چین نے اپنی توانائی کی ضروریات کا 30 فیصد متبادل ذرائع (گرین انرجی) پر منتقل کر کے خود کو کافی حد تک محفوظ کر لیا ہے۔
- چین دنیا کی 80 فیصد قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی پر قابض ہے، جس کی وجہ سے وہ یورپ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
- روس (سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا): تیل کی قیمتیں بڑھنے سے روس کی آمدنی دُگنی ہو گئی ہے اور اس پر لگی مغربی پابندیاں بے اثر ہو رہی ہیں، کیونکہ دنیا کو اس وقت روسی تیل کی اشد ضرورت ہے۔
- ایشیائی معیشتیں (سب سے زیادہ متاثر): جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان اس وقت بدترین صورتحال کا شکار ہیں کیونکہ ان کا مکمل انحصار اسی راستے سے آنے والی ایل این جی (LNG) پر ہے۔
ایران کی 'جنگ بندی یا مکمل بندش' پالیسی
عالمی قیادت میں اب یہ بات جڑ پکڑ چکی ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک مکمل جنگ بندی نہیں ہوتی۔
امریکہ کی تمام حکمتِ عملیاں، بشمول فوجی تحفظ، 20 ارب ڈالر کا انشورنس پلان اور ہنگامی ذخائر کا استعمال، یہ سب اب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی اپنی سلامتی اور معاشی بقا کی ضمانت ہی عالمی توانائی کی سلامتی کی ضمانت ہے۔
مستقبل کے تعلقات پر جنگ کے اثرات
اس جنگ نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے ایران کے ساتھ تعلقات میں ایسے گہرے شکوک پیدا کر دیے ہیں جن کا ازالہ جنگ کے بعد بھی مشکل نظر آتا ہے۔
خلیجی ممالک اب اسے اپنی سلامتی کے لیے ایک مستقل خطرہ دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نئے سیکیورٹی اتحادوں اور متبادل زمینی راستوں (جیسے سعودی عرب کی مشرق-مغرب پائپ لائن اور متحدہ عرب امارات کی فجیرہ پائپ لائن) کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
گیس کی جنگ اور ’ساؤتھ پارس‘کا محاذ
صدر ٹرمپ کا حالیہ رجحان ایران کی گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی طرف ہے، کیونکہ یہ ایران کی مقامی بجلی کی پیداوار کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ایران کی ’ساؤتھ پارس‘ فیلڈ (جو قطر کی ’نارتھ فیلڈ‘کے ساتھ مشترک ہے) اور قطر کے ’راس لفان‘ کمپلیکس پر ہونے والے حملوں نے گیس کی عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
’راس لفان‘ قطر کا وہ قیمتی ترین اثاثہ ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی گیس مائع کرنے والے یونٹس موجود ہیں۔
ان حساس تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جو عالمی توانائی کے بحران کو مزید طول دے گا۔
فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ امریکی و اسرائیلی اقدامات ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ اس کے برعکس، تہران نے پورے خطے کو ایک ایسے شعلے میں بدل دیا ہے جو بلا امتیاز سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔