خلیجی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ خلیجی ممالک نے امریکہ کو واضح کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا مقصد صرف جنگ کا خاتمہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں براہِ راست خلیجی ممالک کے تحفظ اور مفادات کی حفاظت شامل ہونی چاہیے۔
اس کے لیے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں پر مستقل اور قابل عمل پابندیاں لگائی جائیں اور عالمی توانائی کی فراہمی کو دوبارہ دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روکا جائے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق، خلیج میں اب سوال یہ نہیں رہا کہ جنگ کیسے ختم ہوگی، بلکہ یہ کہ اس کے بعد کون سا علاقائی نظام قائم ہوگا۔
خلیجی دار الحکومتیں زور دیتی ہیں کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی، اسرائیلی جنگ کے دوران خطے میں اہم تنصیبات اور مفادات پر حملے ہوئے، جس سے سفارتی اختیارات کمزور ہوئے۔
خلیجی ممالک مطالبہ کر رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایسے قابل عمل اقدامات شامل ہوں جو توانائی کے تنصیبات اور شہری سہولیات پر میزائل اور ڈرون حملوں کو محدود کریں، تیل کی لائنوں اور سمندری راستوں کے خطرات کو کم کریں اور خطے میں بالواسطہ جنگ کی روک تھام کریں۔
یہ ممالک اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ قواعدِ جنگ نو مرتب کیے جائیں، جیسے کہ ہرمز کے راستے کو دوبارہ جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے اور کہ کسی بھی معاہدے کے بعد بننے والی سکیورٹی اور سیاسی ڈھانچے میں خلیجی ممالک کو حصہ دار بنایا جائے۔