امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ایران کے خلاف گزشتہ 24 دنوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہے جبکہ اسی دوران علاقائی اور عالمی ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان گہری خلیج کو پُر کرنے کے لیے تیزی سے کوششیں کر رہے ہیں۔
جہاں ٹرمپ اہم اتفاق شدہ نکات اور نتیجہ خیز مذاکرات کی بات کرتے ہیں، وہیں تہران کسی بھی براہِ راست امریکی مذاکرات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور وائٹ ہاؤس کے بیانات کو مالی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کی کوشش قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اس وقت ثالثی کی کوششیں کہاں کھڑی ہیں؟ کون سے اہم فریق اس میں شامل ہیں؟ اور جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی کیا شرائط ہیں؟
علاقائی آپریشن روم، ثالث کون؟
علاقائی ممالک کا ایک نیٹ ورک شہد کی مکھیوں کی طرح سرگرم ہے تاکہ اس بحران کا حل نکالا جا سکے جو خطے کو ہلا رہا ہے اور عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
ان کوششوں میں سرِفہرست پاکستان، ترکی، مصر، عمان اور قطر شامل ہیں۔
پاکستان کا فعال کردار:
اسلام آباد اس بحران میں ایک اہم کھلاڑی بن کر سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف نے ٹرمپ سے فون پر بات کی جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے رابطہ کر کے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ وہ دونوں فریقوں کو مستقبل کے ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو میزبان بنانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس وقت ’پیغام رسان‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ترکی-مصر پیش رفت:
ترکی کے وزیر خارجہ نے مصری، ناروے اور پاکستان کے ہم منصب سے رابطے کیے تاکہ جنگ بندی پر مشترکہ موقف بنایا جا سکے۔
مصر نے کہا ہے کہ وہ واپسی کے نقطے سے بچنے اور مکمل انتشار سے روکنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور ٹرمپ کی جانب سے حملوں میں تاخیر کی تجویز کو مذاکرات کے لیے موقع قرار دیا ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ مصر اور ترکی کے ذریعے ہوا ہے، جسے کشیدگی کم کرنے کی نیک نیتی قرار دیا گیا۔
دوحہ–مسقط چینل:
اسی دوران دوحہ اور مسقط بھی دونوں فریقوں سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت بحال کی جا سکے۔
تل ابیب ٹرمپ پر حیران
امریکی میڈیا کے مطابق بالواسطہ مذاکرات الگ الگ جاری ہیں، جہاں امریکی ایلچی اور ٹرمپ کے داماد کوشنر ایک طرف، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دوسری طرف ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر سے ملاقات کی درخواست بھی دی ہے تاہم ایرانی حکام کے مطابق اس پر ابھی غور نہیں ہوا۔
یہ تیز رفتار پیش رفت اسرائیل کے لیے بھی غیر متوقع رہی، اور ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق وہ ٹرمپ کے بیانات سے حیران رہ گئے۔
ایرانی تردید
امریکی امیدوں کے برعکس ایران نے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ اور پارلیمنٹ اسپیکر نے کسی بھی مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات کو ’جھوٹی خبریں‘ قرار دیا۔
ایران نے تسلیم کیا کہ اسے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے، جن کے جواب میں اس نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا، جس میں بنیادی تنصیبات پر حملے کی صورت میں ’سنگین نتائج‘ کی وارننگ شامل ہے۔
ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر کو مذاکرات کی شرائط یا ڈیڈ لائن طے کرنے کا اختیار نہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ جنگ قومی اہداف کے حصول تک جاری رہے گی۔
آبنائے ہرمز اور جنگ بندی کی شرائط
ثالثی میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کی سخت شرائط ہیں:
آبنائے ہرمز:
ایران اسے کسی غیر جانبدار علاقائی کمیٹی کے سپرد کرنے سے انکار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا حق دیا جائے۔
اس مطالبے کو خلیجی ممالک نے مسترد کر دیا ہے۔
معاوضہ اور ضمانتیں:
ایران جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانت، خلیج میں امریکی اڈوں کی بندش، اور تباہی کے بدلے مالی معاوضہ چاہتا ہے، ساتھ ہی جارحیت کے اعتراف کا مطالبہ کرتا ہے۔
لبنان محاذ:
ایران اسرائیلی حملوں کے خاتمے کو بھی شرط بناتا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اب تک دو اہم مطالبات—معاوضہ اور جارحیت کا اعتراف—ماننے سے انکار کر رہا ہے۔
اس کے مقابلے میں امریکہ کے مطالبات میں آبنائے ہرمز کو بغیر شرط کھولنا، میزائل پروگرام منجمد کرنا، یورینیم افزودگی روکنا، اور ایران سے منسلک علاقائی گروہوں کی حمایت ختم کرنا شامل ہے۔
آگے کیا ہونا ہے؟
اگرچہ جرمنی، برطانیہ اور روس نے محتاط امید کا اظہار کیا ہے لیکن دونوں فریقوں کے درمیان وسیع خلیج فوری حل کے امکانات کو کمزور بناتی ہے۔
ادھر پاکستان، مصر اور ترکی ٹرمپ کی دی گئی 5 دن کی مہلت کو استعمال کر کے جنگ بندی کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ایران کے سخت مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طویل جنگ سے خوفزدہ نہیں اور آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی منڈیوں کو اپنی اسٹریٹجک طاقت کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔