عالمی سرمایہ کاری کا ماحول اس وقت ایک ایسی پیچیدہ پہیلی بن چکا ہے جہاں جغرافیائی سیاست کی بدلتی سرخیاں پل بھر میں اثاثوں کی قیمتیں الٹ پلٹ کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں
جارج خوری(سربراہ ریسرچ CFI) کے مطابق سرمایہ کار اس وقت ’نامعلوم کے خوف‘ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ڈالر اور نقد رقم (Liquidity) میں پناہ لینے کا رجحان حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاشی سے زیادہ ایک سیاسی بحران ہے اور صحیح حکمتِ عملی اپنا کر اس دھند میں بھی منافع کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
توانائی بحران اور ڈالر کی برتری
مستقبل قریب میں توانائی کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے، جو براہِ راست عالمی مہنگائی کو بڑھاوا دے گا۔
اس صورتحال میں امریکی ڈالر کو تقویت مل رہی ہے، جبکہ اسٹاک مارکیٹ اور دیگر اشیا (Commodities) پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کو اسٹیگ فلیشن (Stagflation) یعنی مہنگائی اور معاشی سست روی کے ملے جلے منظرنامے کے لیے تیار رہنا چاہیے، لیکن بہت زیادہ دفاعی پوزیشن لینا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت: کہاں خریدیں ، کہاں رُکیں؟
2025 میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی اندھا دھند سرمایہ کاری اب خطرے کی زد میں ہے۔
جارج خوری کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا سیکٹر ڈوب جائے گا، بلکہ اب ’انتخابی خریداری‘ یعنی سوچ سمجھ کر پیسہ لگانے کا وقت ہے۔
- ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر: وہ کمپنیاں جو ڈیٹا سینٹرز اور بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچے پر کام کر رہی ہیں، اب بھی پرکشش ہیں۔
- مضبوط بنیادیں: مائیکروسافٹ اور اینویڈیا (Nvidia) جیسی کمپنیاں، جن کے پاس وافر نقد رقم ہے اور قرضوں کا بوجھ کم ہے، قلیل مدتی گراوٹ کے باوجود طویل مدت کے لیے بہترین مواقع فراہم کر رہی ہیں۔
محفوظ پناہ گاہیں: ڈالر، سونا اور بانڈز
موجودہ حالات میں ’سیف ہیون‘ اثاثوں کی ترتیب بدل چکی ہے:
- امریکی ڈالر: فی الحال سب سے واضح اور مضبوط انتخاب ہے۔
- بانڈز: ان میں سرمایہ کاری فی الحال پرخطر ہے کیونکہ قیمتوں میں مزید کمی کا اندیشہ موجود ہے۔
- سونا: اگرچہ سونا اس وقت کوئی بڑی چھلانگ نہیں لگا رہا اور شاید کچھ نقصان بھی دکھائے، لیکن درمیانی مدت (3 ماہ سے ایک سال) کے لیے اس میں آہستہ آہستہ پوزیشن بنانا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔
منفی حقیقی شرح سود اور مستقبل کا رخ
اگر مہنگائی کی شرح بلند رہتی ہے اور مرکزی بینک اس کے مقابلے میں شرح سود میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتے تو ’حقیقی شرح سود‘ منفی زون میں رہے گی۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سونا اور دیگر متبادل اثاثے دوبارہ اپنی چمک دکھانا شروع کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے فوراً بعد مارکیٹ نہیں اٹھے گی، بلکہ اصل بہتری 2 سے 3 ماہ بعد نظر آئے گی جب تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کا رخ واضح ہو جائے گا۔