کیلے کا تیزی سے پک کر گلنا یا خراب ہونا ایک عام مسئلہ ہے، جو کسی ٹائم بم کی طرح کام کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین کے مطابق پیلے رنگ کے نرم اور ذائقہ دار کیلے دیکھتے ہی دیکھتے بھورے اور لیس دار ہو جاتے ہیں، تاہم چند سائنسی نکات پر عمل کر کے اس عمل کو سست بنایا جا سکتا ہے۔
ایتھیلین گیس
کیلا پکنے کے عمل میں ’ایتھیلین‘ گیس کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جو نہ صرف پھل کو پکاتی ہے بلکہ اس کے گلنے کی رفتار بھی بڑھا دیتی ہے۔
ایک پکا ہوا کیلا یہ گیس خارج کرتا ہے، جس سے اس کے قریب موجود دیگر پھل بھی تیزی سے پکنے لگتے ہیں۔
کیلے لٹکانے کا سائنسی فائدہ
نیویارک میں قائم ’ٹاپ بنانا‘ کمپنی کے آپریشنز ڈائریکٹر ڈینیئل بارابینو کے مطابق کیلے کو لٹائے رکھنے کے بجائے لٹکانا چاہیے۔
کیلوں کو لٹکانے سے ہوا کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور ایتھیلین گیس جمع ہونے کے بجائے فضا میں منتشر ہو جاتی ہے، جس سے پھل کئی دن تک تازہ رہتا ہے۔
’تاج‘ کی حفاظت
ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں کو رگڑ ، دباؤ یا چوٹ سے بچانا بھی ضروری ہے، کیونکہ اس طرح ایتھیلین کی پیداوار بڑھاتی ہیں۔
اسی طرح کیلے کے اوپری حصے، جسے ’تاج‘ کہا جاتا ہے، کو پلاسٹک سے لپیٹنا چاہیے۔ یہ عمل گیس کے اخراج کو روکتا ہے اور کیلے کو جلد گلنے سے محفوظ رکھتا ہے۔
فریج میں رکھنے سے گریز کیوں؟
ماہر نباتات جیمز جیووانی کے مطابق کیلا ایک استوائی پھل ہے جو سردی کے خلاف حساس ہوتا ہے۔
اسے فریج میں رکھنے سے چھلکا تیزی سے سیاہ پڑ جاتا ہے اور اندر کا گودا لیس دار ہو جاتا ہے۔ اسے تقریباً 13 سے 24 ڈگری سیلسیس کے درمیان درجہ حرارت پر رکھنا ہی بہترین ہے۔
ماہرین کے مطابق کیلے کی تازگی کا دارومدار ایتھیلین گیس کو کنٹرول کرنے پر ہے۔
اگر ہم پھل کو ہوادار جگہ پر لٹکائیں، اسے دباؤ اور چوٹ سے بچائیں اور درجہ حرارت کا خیال رکھیں تو ہم اسے غیر ضروری طور پر ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
یہ چھوٹی چھوٹی احتیاطیں پھلوں کی عمر بڑھانے میں مددگار ہیں۔