اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

2027ء تک دنیا بھر میں مزید 42 لاکھ افراد بے گھر ہو جائیں گے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی بے گھر افراد اضافہ اور مہاجرین بحران رپورٹ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈینش ریفیوجی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری جنگوں، تنازعات اور تشدد کی وجہ سے 2027 کے اختتام تک مزید 42 لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق یہ تازہ ترین اعداد و شمار عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے انسانی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی پیش گوئی 2025 کے اختتام تک دستیاب ڈیٹا پر مبنی ہے، جس میں پہلے سے موجود 11 کروڑ 73 لاکھ بے گھر افراد شامل نہیں ہیں۔ اس طرح عالمی سطح پر نقل مکانی کرنے والوں کی مجموعی تعداد میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔

کونسل کی سیکرٹری جنرل شارلوٹ سلینٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ تخمینوں میں مشرق وسطیٰ کے موجودہ تناؤ اور جنگ سے متاثر ہو کر فرار ہونے والے افراد کے اعداد و شمار تاحال شامل نہیں ہیں۔

شارلوٹ سلینٹی نے لبنان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہر 5 میں سے ایک شخص جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو چکا ہے۔

عالمی بے گھر افراد اضافہ اور مہاجرین بحران رپورٹ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

انہوں نے لبنان اور ایران میں مستقل جنگ بندی پر بھی زور دیا تاکہ متاثرہ خاندان اپنے گھروں کو واپس جا کر سکون سے زندگی گزار سکیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب نقل مکانی صرف چند بڑے بحرانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ دنیا کے مزید ممالک میں پھیل رہی ہے۔ 

ماضی کے برعکس اب نئے ممالک بھی اس انسانی المیے کی لپیٹ میں آ رہے ہیں جو کہ ایک انتہائی تشویشناک عالمی رجحان ہے۔

2025 میں میانمار اور سوڈان عالمی سطح پر ہونے والی مجموعی نقل مکانی کے نصف حصے کے ذمہ دار تھے۔  تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب ان دونوں ممالک کا حصہ کم ہو کر مجموعی تعداد کا صرف ایک چوتھائی رہ گیا ہے جو کہ بحران کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی امداد میں کٹوتی کا نقل مکانی پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ 

یوکرین، جنوبی سوڈان، نائیجیریا اور مالی جیسے ممالک، جہاں نقل مکانی کی شرح سب سے زیادہ ہے، وہاں امن کی کوششوں کے لیے مختص فنڈز میں 2024 کے دوران اوسطاً 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس کے برعکس صومالیہ، سوڈان، افغانستان، شام اور جمہوریہ کانگو میں نقل مکانی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ 

ان ممالک میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے مختص فنڈز میں اوسطاً 15 فیصد اضافہ ہوا، جو مالی امداد اور استحکام کے گہرے تعلق کو ثابت کرتا ہے۔