ایران نے امریکہ کی جانب سے اپنی بندرگاہوں کی ناکابندی کے ردعمل میں خلیج عرب، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر تک جہاز رانی کا راستہ مکمل طور پر بند کرنے کی باقاعدہ اور صریح دھمکی دے دی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے درمیان فیلڈ کوآرڈینیشن کے ذمہ دار مرکز ’خاتم الانبیاء‘ نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی محاصرہ جاری رہا تو وہ عالمی تجارت کے لیے اہم ترین بحری شریانوں کو کاٹ کر رکھ دیں گے۔
تجزیہ کار صہیب العصا کے مطابق باب المندب کو جنگی محاذ میں شامل کرنے کا مطلب پورے خطے کو ایک ایسی معاشی اور سیکیورٹی بحران
میں دھکیلنا ہے جس کے اثرات سے دنیا کا کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکلز کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جبکہ باب المندب وہ مرکزی دروازہ ہے جہاں سے یہ تمام دولت یورپ اور مغربی ممالک کی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان اہم بحری راستوں کی بندش سے عالمی تجارت مفلوج ہو جائے گی اور چین، بھارت و جاپان جیسے ممالک سے یورپ جانے والے تجارتی جہازوں کو طویل راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس سے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔
اس وقت خطے میں ابراہم لنکن، جیرالڈ فورڈ اور جارج بش سمیت 3 امریکی طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں۔
دوسری جانب ایران خلیجی پانیوں میں اپنے 40 عسکری جزائر کو دفاعی اور جارحانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کا یہ انتباہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ان کی مکمل جنگی تیاری کا اعلان ہے، جس میں ایران اپنی طویل ساحلی پٹی کو بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
عسکری ماہر بریگیڈیئر الیاس حنا نے امریکی محاصرے کو ’بحری قرنطینہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ سیٹلائٹ کے ذریعے ایرانی ٹینکرز کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ میرینز اور کوسٹ گارڈز کے ذریعے ان پر قبضہ کیا جا سکے۔
الیاس حنا کے مطابق ایرانی تیل کی 90 فیصد ترسیل جزیرہ خارک سے ہوتی ہے، اس لیے امریکہ کی توجہ اسی مقام پر مرکوز ہے، تاہم آبنائے ہرمز کا کوئی متبادل نہ ہونا اسے باب المندب سے زیادہ حساس بناتا ہے۔
یمن میں حوثی گروپ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران وہاں صرف مشاورت اور تربیت تک محدود ہے، جبکہ انصار اللہ اپنے جغرافیائی حالات اور سیاسی مفادات کے تحت آزاد فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کے درمیان 2 ہزار کلومیٹر کا طویل فاصلہ ہے، جس کی وجہ سے ایران وہاں براہ راست عسکری مداخلت کے بجائے اپنے اتحادیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔
گزشتہ 2 برس کے دوران حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باب المندب کا محاذ عالمی معیشت کے لیے کتنا خطرناک ہے۔