سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز کی حقیقت سامنے آ گئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری بارودی سرنگوں نے امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ ویڈیوز مکمل طور پر جعلی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔
ان ویڈیوز کو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لاکھوں بار دیکھا جا چکا ، جن میں مختلف قومیتوں کے افراد کو لائیو ویڈیو بناتے ہوئے دھماکوں کے مناظر دکھاتے پیش کیا گیا۔
فیکٹ چیکٹ کے مطابق ڈرامائی زاویوں اور آوازوں کی وجہ سے عام
صارفین نے ان من گھڑت مناظر کو حقیقی عسکری کارروائی سمجھ لیا۔
ماہرین کے تکنیکی تجزیے نے ثابت کیا ہے کہ ان ویڈیوز میں پانی کی لہروں اور دھماکوں کے درمیان کوئی منطقی ربط موجود نہیں ہے۔
آواز اور تصویر کے عدم توازن کے علاوہ جہازوں کی ساخت اور انسانی چہروں میں بھی واضح بصری نقائص پائے گئے ہیں جو مصنوعی ذہانت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان ویڈیوز میں سب سے مضحکہ خیز پہلو ایک ایسی روشن لائٹ کا نظر آنا ہے جو عام طور پر شاہراہوں پر سائن بورڈ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
کھلے سمندر کے بیچوں بیچ ایسے زمینی اشارے کی موجودگی نے ان ویڈیوز کے جعلی ہونے کے پول کو مکمل طور پر کھول دیا ہے۔
@imkingcoin 🚨BREAKING: Strait of Hormuz today! #oil ♬ original sound - imkingcoin
دوسری جانب عالمی بحری تجارتی ادارے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی ایسے کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے حساس ترین بحری راستے میں اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا تو فوری طور پر بین الاقوامی الرٹ اور سیکیورٹی وارننگ جاری کر دی جاتی۔
یہ جعلی ویڈیوز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید سیاسی و عسکری تناؤ پایا جاتا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے حال ہی میں ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کا اعلان کیا ہے ۔
@imkingcoin 🚨 BREAKING: $2M Toll to Cross the Strait of Hormuz — Pay in USD or Crypto #oil #news #crypto ♬ original sound - imkingcoin
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس بحری محاصرے میں امریکی فوج کے 10 ہزار سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں جن میں میرینز اور اسپیشل فورسز شامل ہیں۔
اس کارروائی میں 15 سے زائد جنگی جہاز اور درجنوں طیارے بھی ایرانی ساحلوں کی کڑی نگرانی کررہے ہیں۔
Yesterday, an Iranian-flagged cargo vessel tried to evade the U.S. blockade after leaving Bandar Abbas, exiting the Strait of Hormuz, and transiting along the Iranian coastline. The guided-missile destroyer USS Spruance (DDG 111) successfully redirected the vessel, which is… pic.twitter.com/EUnwhwYiDv
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 15, 2026