اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

تہران اور واشنگٹن کے بیانیے میں امریکی ناکابندی کتنی کامیاب رہی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی ناکابندی کامیابی اور ایران امریکہ بیانیہ جنگ تحلیل
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکابندی (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

آبنائے ہرمز، خلیج عرب اور بحیرہ عرب میں امریکی بحری ناکابندی کے بعد سے سمندری نقل و حمل کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق اب بحث صرف جہازوں کی آمدورفت تک محدود نہیں رہی، بلکہ بنیادی سوال یہ بن چکا ہے کہ سمندری گزرگاہ  کے استعمال کا اصل مفہوم کیا ہے۔

امریکا کے مطابق ناکابندی کا مقصد ایران کی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے جہازوں کو روکنا ہے، جبکہ غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والی جہاز رانی بدستور آزاد ہے۔ 

اس کے برعکس تہران مصر ہے کہ آبنائے ہرمز کبھی بند نہیں ہوئی اور وہ خود اس راستے کو محفوظ بناتا رہا ہے۔

ایران امریکی محاصرہ دھمکی کے بعد آبنائے ہرمز صورتحال
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کا دعویٰ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران دہائیوں سے اس خطے کا محافظ رہا ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ حالیہ 40 دنوں میں سیکیورٹی کی صورتحال امریکی اور اسرائیلی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح وزیر خارجہ عباس عراقجی کے مطابق ایران غیر دشمن جہازوں کو عبور کی سہولت دے رہا ہے۔

زمینی صورتحال

خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایرانی کنٹینر جہاز پاکستان کے ساحل کے قریب سے گزر کر کھلے سمندر میں پہنچا۔

نیز ایک ایرانی آئل ٹینکر بھی آبنائے ہرمز سے گزر کر ملکی حدود میں داخل ہوا، جس سے تہران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ناکابندی مکمل نہیں ہے۔

امریکی دعوے

امریکی سینٹرل کمانڈ کا مؤقف ہے کہ ناکابندی کا معیار مکمل بحری بندش نہیں، بلکہ ایران سے منسلک تجارتی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

حکام کے مطابق ناکابندی کے آغاز سے اب تک کسی بھی ہدف بنائے گئے جہاز کو گزرنے نہیں دیا گیا، جبکہ 10 جہازوں کو واپس موڑا گیا ہے۔

تہران کے منجمد اثاثے اور ایران امریکہ مذاکرات کی اہمیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اعداد و شمار اور معاشی اثرات

لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ اور ’کیپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق ناکا بندی کے اعلان کے بعد سے کوئی بھی ایرانی خام تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا۔

واشنگٹن کے مطابق انسانی امداد کے جہازوں کو تلاشی کے بعد گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، تاہم تجارتی نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع دراصل فریقین کے بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ 

واشنگٹن تجارتی ناکابندی کو اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے، جبکہ تہران محدود نقل و حرکت کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ 

فریقین کے مابین تعریف کا یہ تضاد ناکابندی کے منفی معاشی اثرات پر سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔