امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی آج جمعرات کی رات امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام 5 بجے سے شروع ہوگی اور 10 دن تک جاری رہے گی۔
لبنانی صدر جوزف عون اور ٹرمپ کے درمیان آج جمعرات کی دوپہر ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں لبنان میں جنگ بندی اور خطے میں استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق عون نے جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات مستقل امن کی راہ ہموار کریں گے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے صدر عون اور لبنان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد جنگ بندی کے لبنانی مطالبے کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ادھر ایک لبنانی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ صدر عون اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان کسی ممکنہ رابطے کی اطلاعات درست نہیں اور بیروت اس وقت ایسے کسی اقدام کے لیے تیار نہیں۔
عہدیدار کے مطابق لبنان اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی سے قبل کسی بھی مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا، خاص طور پر جب جنوبی لبنان میں کشیدگی اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل عندیہ دیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کی قیادت کے درمیان دہائیوں بعد پہلا رابطہ ممکن ہو سکا ہے، تاہم اسرائیل نے واضح کیا کہ کسی بھی مذاکرات کا مقصد بین الاقوامی کوششوں کے تحت کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔