بادیہ فحص
لبنانی صحافی اور تجزیہ نگار۔ المجلہ
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی نشستوں کی میزبانی پاکستان کی جدید سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
جیسے ہی اسلام آباد نے ثالثی کی پیشکش کی اور دونوں متحارب فریقوں نے فوری طور پر اس پر مثبت ردعمل دیا، پاکستان کو ایک ایسا سیاسی وزن حاصل ہوا جس نے اسے خطے کے بحرانوں میں حاشیے سے نکال کر مرکز میں لا کھڑا کیا۔
مزید پڑھیں
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے اس کردار کی بنیاد ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اس کے تعلقات اور خطے میں اس کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت ہے۔
واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات نسبتاً خوشگوار سمجھے جاتے ہیں، جس کا اظہار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت اور فوجی قیادت کے لیے استعمال کیے جانے والے ذاتی اور مثبت
بیانات سے بھی ہوتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی ذاتی قربتیں بذاتِ خود کسی ملک کو ثالثی کا مرکزی کردار نہیں دلاتیں بلکہ اس کے پیچھے وسیع تر اسٹریٹجک مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔
ایران کے حوالے سے اسلام آباد کی ثالثی کو اس وجہ سے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کہ پاکستان کے ہاں امریکی فوجی اڈوں کی عدم موجودگی تہران کے لیے ایک قابلِ قبول پہلو سمجھا جاتا ہے۔
تاہم بعض مبصرین کے مطابق ایران نے موجودہ حالات میں جنگ کے پھیلاؤ اور اندرونی عدم استحکام کے خدشات کے باعث مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کو ترجیح دی۔
تجزیے کے مطابق تہران اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ پاکستان کے امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جبکہ خطے میں اس کے روایتی اتحادی کمزور ہو چکے ہیں، جس کے باعث وہ اسلام آباد کے سفارتی کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب پاکستان کے اس کردار کے پیچھے اس کی اپنی سکیورٹی ترجیحات بھی ہیں، خصوصاً ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں کسی بھی ممکنہ عدم استحکام کے اثرات سے بچاؤ۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران میں صورتحال بگڑتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے بلوچستان اور سرحدی علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں پہلے ہی سکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔
مزید پڑھیں
مزید برآں پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور معاشی روابط بھی اس کی خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس میں لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کی ترسیلاتِ زر بھی شامل ہیں۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں پاکستان نے دونوں فریقوں کو جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا، تاہم ماہرین کے مطابق اصل سفارتی آزمائش اب شروع ہوئی ہے، کیونکہ مستقل امن
معاہدے تک پہنچنے کا راستہ اب بھی پیچیدہ اور غیر یقینی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اپنے اپنے اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکے، جس کے باعث صورتحال اب بھی ’غیر واضح‘ مرحلے میں ہے، جہاں نہ مکمل کامیابی ہے اور نہ مکمل ناکامی۔
اس کے باوجود اسلام آباد اپنی سفارتی کامیابی کو ایک ابھرتے ہوئے کردار کے طور پر دیکھ رہا ہے، جو محض عسکری طاقت نہیں بلکہ سفارت کاری کے ذریعے بھی خطے میں مؤثر اثر و رسوخ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔