واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں فریق ایک جامع معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق امکان ہے کہ آئندہ ہفتے جنگ بندی کے خاتمے سے قبل ایک نیا براہِ راست اجلاس منعقد ہو، جبکہ براہِ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ مذاکراتی دور کے اختتام کے بعد سے ایران کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جن کا مقصد ایک ایسا جامع معاہدہ طے کرنا ہے جو تنازعے کا خاتمہ کر سکے۔
حکام نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ بنیادی ہدف دونوں فریقوں کے مؤقف میں قربت پیدا کرنا ہے تاکہ حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ان کے مطابق گزشتہ عرصے کے دوران دونوں جانب کے مذاکرات کاروں کے درمیان رابطے باقاعدگی سے ہوتے رہے، اگرچہ ان میں سے زیادہ تر بالواسطہ تھے، تاہم کچھ براہِ راست رابطے بھی ہوئے۔
جامع معاہدے کی کوششیں
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ دونوں فریقوں کو ایک ایسے مرحلے تک لانا چاہتی ہے جہاں ایک جامع معاہدہ ممکن ہو، جسے ایک دوسرے براہِ راست اجلاس میں حتمی شکل دی جا سکے اور اس کے جلد انعقاد کا امکان ہے، ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے۔
تاہم حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حتمی تفصیلات اور عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق تکنیکی مذاکرات زیادہ وقت لے سکتے ہیں اور اس کے لیے ممکنہ طور پر جنگ بندی میں توسیع درکار ہو، اگرچہ فی الحال یہ ترجیح نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے پورے ہفتے ایران کے ساتھ رابطوں میں حصہ لیا جبکہ آئندہ کسی بھی مذاکراتی دور کے لیے امریکی وفد کی حتمی تشکیل ابھی طے نہیں ہوئی۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت اور جاری ہیں، اور امکان ہے کہ اگلا دور اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان ہی ان مذاکرات میں واحد ثالث ہے‘۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے اور انہیں غلط قرار دیا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ہوا تھا تاہم وہ کسی ایسے اتفاقِ رائے پر منتج نہیں ہوا جو دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو، جبکہ 8 اپریل کو اعلان کردہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔