ایران کا 440 کلوگرام افزودہ یورینیم اس وقت کہاں ہے؟ یہ اہم سوال اس وقت دنیا بھر میں زیربحث ہے۔
مزید پڑھیں
ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد جہاں ایک طرف یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا راستہ طویل عرصے کے لیے روک دیا ہے، وہیں دوسری طرف ایک ایسا سوال سر اٹھا رہا ہے جس کا جواب تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکا۔
ایران کا 440 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کہاں ہے؟ یہ وہ قیمتی اور
خطرناک ذخیرہ ہے جو کسی بھی ممکنہ امن مذاکرات میں تہران کا سب سے مضبوط کارڈ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایرانی ایٹمی پروگرام: وقتی تعطل یا مستقل خاتمہ؟
امریکی تھنک ٹینک ’انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی‘کے ماہر اسپنسر فاراگاسو کا کہنا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایک شدید دھچکے کا شکار ہوا ہے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے کثیر سرمایہ اور وقت درکار ہوگا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ کامیابی مستقل نہیں ہے۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق جون 2025 کے حملوں سے قبل تہران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم کی مقدار تقریباً 440 کلوگرام تھی۔
یاد رہے کہ 60 فیصد افزودگی ایٹم بم کے لیے درکار 90 فیصد کی حد کے انتہائی قریب تصور کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے پاس 20 فیصد افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے، جو کسی بھی وقت تیزی سے 90 فیصد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
پراسرار مقام: یورینیم کے ممکنہ ٹھکانے
جون 2025 کے بعد سے اس ذخیرے کا مستقبل غیر واضح ہے۔ تہران نے عالمی نگرانوں کو ان مقامات تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے جنہیں حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
ماہرین اور سفارتی ذرائع کے مطابق اس ذخیرے کی تقسیم درج ذیل مقامات پر ہو سکتی ہے:
- اصفہان کا مجمع: اسپنسر فاراگاسو کا خیال ہے کہ کم از کم 220 کلوگرام یورینیم (ایران کے 60 فیصد افزودہ ذخیرے کا نصف) وسطی ایران کے شہر اصفہان میں واقع زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ ہے۔
- فورڈو کا ملبہ: باقی ماندہ نصف ذخیرے کے بارے میں گمان ہے کہ وہ فورڈو کی تنصیب کے ملبے تلے دبا ہوا ہے، جہاں جنگ سے پہلے بڑے پیمانے پر افزودگی کا عمل جاری تھا۔
- نامعلوم مقام پر منتقلی: 3مغربی سفارت کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ حملوں سے قبل یا دوران کچھ مقدار کسی محفوظ اور خفیہ مقام پر منتقل کر دی گئی ہو۔
سفارتی جنگ اور روس کا کردار
امریکہ اور اسرائیل کا حتمی ہدف ایرانی سرزمین سے اس تمام افزودہ یورینیم کا مکمل خاتمہ ہے۔
تاہم مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس ذخیرے کو ’ڈائیلوٹ‘ (Dilute) کرنے یا اس کی افزودگی کم کرنے کا آپشن فی الحال مسترد کر دیا گیا ہے۔
اسی دوران روس نے ایک بار پھر اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکہ اور علاقائی ممالک کو تجویز دی ہے کہ روس اس افزودہ یورینیم کو اپنی سرزمین پر رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یہ تجویز یورپی ممالک کے لیے ایک ’ریڈ لائن‘ ہے، کیونکہ روس گزشتہ 4 سال سے یوکرین کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے اور یورپ اسے ایٹمی مواد دینے کے حق میں نہیں ہے۔
مذاکرات کا اگلا دور: 5 سال بمقابلہ 20 سال
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کے پہلے دور میں واشنگٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ اور 20 سال تک یورینیم کی افزودگی مکمل بند کرے۔
اس کے برعکس ایرانی وفد نے صرف 5 سال تک افزودگی روکنے کی پیشکش کی ہے۔
تازہ پیش رفت کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک 440 کلوگرام یورینیم کا سراغ نہیں مل جاتا اور ’آئی اے ای اے‘ کے نگران زمینی حقائق کی تصدیق نہیں کر دیتے، اس وقت تک کسی پائیدار امن معاہدے کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے۔