ممدوح المہینی
العربیہ اور الحدث چینل کے ڈائریکٹر جنرل
مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظر نامے پر جب بھی ایران کا ذکر آتا ہے تو اسے اکثر و بیشتر ’فرقہ وارانہ تصادم‘ یا ’سنی شیعہ کشمکش‘ کا نام دے کر سادہ بنا دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ دراصل ایک ایسا جال ہے جسے ایرانی نظام نے خود بڑی مہارت سے بُنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع کو مذہبی رنگ دینا اسے ناقابلِ حل بنانا ہے، کیونکہ مذہبی جنگیں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور ان میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اختلاف مسلکی نہیں بلکہ سراسر سیاسی اور نظریاتی ہے۔
فرقہ واریت: تہران کی اسٹریٹیجک ڈھال
ایران کے ساتھ تنازع کو مسلکی رنگ دینے والے دراصل نادانستہ طور پر تہران کے اس منصوبے کو تقویت دیتے ہیں جس کا مقصد معاشروں کو تقسیم کرنا اور سیاسی مفادات کو ’شناخت کی جنگ‘ میں بدلنا ہے۔
یہی وہ حکمتِ عملی ہے جو ماضی میں القاعدہ اور داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں نے اپنائی۔ حزب اللہ اور دیگر ایرانی وابستہ گروہ بھی اسی طرح کا خطاب استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب سیاسی مفادات کو مقدس لبادہ پہنا دیا جاتا ہے، تو سمجھوتا ناممکن ہو جاتا ہے۔
خود ایران سے اٹھتی آوازیں
اس نظریے کی سب سے بڑی نفی خود ایران کے اندر سے ہوتی ہے۔
ایرانی نظام کے خلاف سب سے زیادہ آوازیں اٹھانے والے وہ شہری ہیں جن کی اکثریت شیعہ ہے۔ یہ لوگ فرقہ وارانہ بنیادوں پر سڑکوں پر نہیں نکلتے، بلکہ وہ اس نظام کو مسترد کرتے ہیں جس نے انہیں غربت، تنہائی اور لامتناہی جنگوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
جو نظام خود کو ’شیعہ حقوق کا محافظ‘ کہتا ہے، اسی کے ہاتھوں سب سے زیادہ شیعہ مسلمانوں کا خون بہا ہے۔
عرب دنیا اور ایرانی رسوخ: وطنیت بمقابلہ وفاداری
عرب دنیا میں ایرانی مداخلت کے خلاف سب سے مضبوط اور جرأت مندانہ آوازیں بھی اسی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما اور دانشوروں کی رہی ہیں۔
نمایاں شخصیات
لبنان کے معروف عالمِ دین علی الامین، بہادر قلمکار لقمان سلیم اور عراقی سیاستدان فائق الشیخ علی جیسی شخصیات نے ثابت کیا کہ ان کا مؤقف مسلکی نہیں بلکہ قومی ہے۔
یہ دانشور اپنی برادری کے اغوا اور اسے ایک سرحد پار سیاسی منصوبے کے لیے آلہ کار بنانے کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا مطالبہ واضح ہے کہ ان کے ملکوں کو ملیشیا کلچر سے پاک کر کے ایک آزاد قومی ریاست بنایا جائے۔
ایران کا عسکری رویہ: میزائل مسلک نہیں دیکھتے
ایران کی خارجہ پالیسی اور عسکری اقدامات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ وہ مسلک کی بنیاد پر فرق نہیں کرتا۔ مثلاً ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں نے کبھی کسی خاص فرقے کی تمیز نہیں کی۔
اسی طرح جن ممالک میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھا، وہاں غربت اور تباہی نے سب کو برابر متاثر کیا۔ لبنان کے جنوبی علاقوں میں، جہاں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے، سب سے زیادہ نقصان اسی طبقے کا ہوا جس کے تحفظ کا دعویٰ تہران کرتا ہے۔
تنظیم بمقابلہ ریاست
آج ایران کے ساتھ اصل جھگڑا اس بات پر ہے کہ ایک ملک کو کیسا ہونا چاہیے؟ یہ تصادم دراصل دو ماڈلز کے درمیان ہے۔
قومی ریاست کا ماڈل: جہاں سرحدیں، قانون اور شہریوں کے حقوق مقدم ہوتے ہیں۔
ملیشیا ماڈل: جہاں ایک نظریہ سرحدوں کو پامال کرتا ہے اور مسلح گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ پھیلاتا ہے۔
دنیا آج ایران کو ایک ’نظریاتی تنظیم‘ سے ایک ’نارمل ریاست‘ میں بدلتے دیکھنا چاہتی ہے، جو ملیشیاؤں کو فنڈز دینے کے بجائے اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں پر پیسہ خرچ کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اختلاف فرقہ وارانہ نہیں بلکہ اصولی ہے۔ جو لوگ اسے اس طرح کی تقسیم کا رنگ دیتے ہیں، وہ دراصل اس پراپیگنڈے کا شکار ہیں جو تہران اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
اس منصوبے کے خلاف کھڑے ہونے والے لوگ کسی ایک فرقے سے نہیں، بلکہ ہر اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ’قومی ریاست‘کے تصور پر یقین رکھتا ہے۔