اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

خلیجی ممالک میں سیاحت کو دھچکا، 120 ارب ریال کا نقصان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
19 ملین سیاحوں کی ممکنہ کمی اور تقریباً 120 ارب سعودی ریال تک کے مالی نقصان کا خدشہ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

خلیج تعاون کونسل GCC کے ممالک میں سیاحت کو 2026 کے دوران بڑھتی ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جو خطے میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے اثرات کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔

 اندازوں کے مطابق 19 ملین سیاحوں کی ممکنہ کمی اور تقریباً 120 ارب سعودی ریال تک کے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ تخمینے خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے سیاحت کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران پیش کیے گئے، جس میں سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے اسرائیل اور ایران جنگ سے جڑے فوجی تناؤ کے سیاحتی سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات سے خبردار کیا ہے۔

البدیوی کے مطابق سیاحوں کی تعداد میں 8 سے 19 ملین تک کمی ہو سکتی ہے، جس سے سیاحتی آمدنی میں واضح کمی آئے گی۔ 

1442616
سیاحوں کی تعداد میں 8 سے 19 ملین تک کمی ہو سکتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس کی وجہ عالمی منڈیوں پر اثرات، مسافروں کے رویوں میں تبدیلی اور سفری رجحانات میں رد و بدل بتایا گیا ہے۔

ممکنہ نقصان، جو 32 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 120 ارب سعودی ریال) تک پہنچ سکتا ہے، خلیجی سیاحتی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

بحران سے پہلے ریکارڈ کارکردگی

خلیجی ممالک نے 2024 میں مضبوط سیاحتی ترقی ریکارڈ کی، جہاں 72 ملین سے زائد سیاح آئے اور آمدنی تقریباً 120 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ 

یہ کامیابی بڑی سرمایہ کاری، عالمی تقریبات اور فضائی رابطوں کی بہتری کی بدولت حاصل ہوئی۔

353634c85d7c326561d382786d947329919aa2b3 1920x1280 1
2024 میں مضبوط سیاحتی ترقی ریکارڈ کی، جہاں 72 ملین سے زائد سیاح آئے (فوٹو: انٹرنیٹ)

براہِ راست اثرات

بحران کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جن میں بین الاقوامی بکنگ میں کمی، پروازوں کی از سر نو شیڈولنگ، اور ایئرلائنز و سیاحتی اداروں کے اخراجات میں اضافہ شامل ہے، جبکہ خطے میں سفر کے حوالے سے اعتماد میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔

بحالی کی امیدیں

اس کے باوجود خلیجی ممالک کو مضبوط اور لچکدار قرار دیا گیا ہے، جو متنوع سیاحتی منصوبوں، قومی ایئرلائنز اور حکومتی حمایت کی بدولت بحران سے جلد بحالی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق حالات معمول پر آنے کے بعد سیاحتی شعبہ دوبارہ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔