خلیج تعاون کونسل GCC کے ممالک میں سیاحت کو 2026 کے دوران بڑھتی ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جو خطے میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے اثرات کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔
اندازوں کے مطابق 19 ملین سیاحوں کی ممکنہ کمی اور تقریباً 120 ارب سعودی ریال تک کے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ تخمینے خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے سیاحت کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران پیش کیے گئے، جس میں سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے اسرائیل اور ایران جنگ سے جڑے فوجی تناؤ کے سیاحتی سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات سے خبردار کیا ہے۔
البدیوی کے مطابق سیاحوں کی تعداد میں 8 سے 19 ملین تک کمی ہو سکتی ہے، جس سے سیاحتی آمدنی میں واضح کمی آئے گی۔
اس کی وجہ عالمی منڈیوں پر اثرات، مسافروں کے رویوں میں تبدیلی اور سفری رجحانات میں رد و بدل بتایا گیا ہے۔
ممکنہ نقصان، جو 32 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 120 ارب سعودی ریال) تک پہنچ سکتا ہے، خلیجی سیاحتی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
بحران سے پہلے ریکارڈ کارکردگی
خلیجی ممالک نے 2024 میں مضبوط سیاحتی ترقی ریکارڈ کی، جہاں 72 ملین سے زائد سیاح آئے اور آمدنی تقریباً 120 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
یہ کامیابی بڑی سرمایہ کاری، عالمی تقریبات اور فضائی رابطوں کی بہتری کی بدولت حاصل ہوئی۔
براہِ راست اثرات
بحران کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جن میں بین الاقوامی بکنگ میں کمی، پروازوں کی از سر نو شیڈولنگ، اور ایئرلائنز و سیاحتی اداروں کے اخراجات میں اضافہ شامل ہے، جبکہ خطے میں سفر کے حوالے سے اعتماد میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
بحالی کی امیدیں
اس کے باوجود خلیجی ممالک کو مضبوط اور لچکدار قرار دیا گیا ہے، جو متنوع سیاحتی منصوبوں، قومی ایئرلائنز اور حکومتی حمایت کی بدولت بحران سے جلد بحالی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالات معمول پر آنے کے بعد سیاحتی شعبہ دوبارہ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔