امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاہم باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر بات چیت میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے خلاف عسکری کشیدگی میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر ایران کی جانب سے ہرمز بند رہی تو عسکری کارروائیاں بھی بڑھ سکتی ہیں جیسا کہ آج جمعرات کو ’اکسیوس‘ نے رپورٹ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پینٹاگون کے اختیارات میں زمینی افواج کا استعمال اور ایران کے مختلف علاقوں پر وسیع پیمانے پر فضائی حملے، نیز جزیرہ خارگ پر قبضہ یا محاصرہ شامل ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران تین باخبر افراد نے بتایا کہ امریکی محکمہ دفاع یوکرین کے لیے مخصوص عسکری امداد کو مشرق وسطیٰ کے لیے منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اس میں دفاعی میزائل شامل ہو سکتے ہیں جو نیٹو کے پروگرام کے تحت طلب کیے گئے تھے، جیسا کہ واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے۔
ابھی تک اس ساز و سامان کو دوبارہ تعینات کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن یہ اقدام ایران کے خلاف جاری جنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت کی عکاسی کرتا ہے۔
قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ جنگ کے پہلے 4 ہفتوں میں انہوں نے 10 ہزار سے زائد حملے کیے۔
امریکی فوج میں سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر بریڈ کُوپر نے گزشتہ شب کہا کہ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی لانچ کی شرح 90 فیصد سے زیادہ کم ہو گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایران کی امریکی اور علاقائی افواج پر حملے کی صلاحیت بہت حد تک کم ہو گئی ہے۔