براہ راست نشریات

’سب منافق ہیں‘ عراقی فٹبال کھلاڑی کی حراست پر ناروے کے کوچ برہم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عراقی فٹبالر ایمن حسین حراست اور فٹ بال ورلڈ کپ 2026 تنازع
ورلڈ کپ کے دوران پیش آنے والی مشکلات محض تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کی ہیں، سولباکن (فوٹو: انٹرنیٹ)

فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے میزبان ملک امریکا میں عراقی ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ایمن حسین کو پہنچنے پر 7 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔

مزید پڑھیں

اس واقعے نے ٹورنامنٹ میں  سیاسی ماحول اور انتظامات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس پر ناروے کے کوچ نے شدید تنقید کی ہے۔

ناروے کی ٹیم کے کوچ سٹیل سولباکن نے شمالی کیرولائنا کے شہر گرینزبورو میں پریس کانفرنس کے دوران اس واقعے پر کھل کر بات کی۔ 

سولباکن نے کہا کہ اس معاملے کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکتا تھا، تاہم انہوں نے اس صورتحال کو ’عالمی منافقت‘ کا شاخسانہ قرار دیا۔

سیاسی تناظر اور سفارتی الجھنیں

سولباکن کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران پیش آنے والی مشکلات محض تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی ہیں۔

انہوں نے میزبان ملک امریکا اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے ایونٹس کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔

ایمن حسین کے ساتھ کیا ہوا؟

اطلاعات کے مطابق ایمن حسین جب اسپین سے شکاگو پہنچے تو انہیں امریکی امیگریشن حکام نے 7 گھنٹے تک تفتیش کے لیے روک لیا۔

ارجنٹائن کی ویب سائٹ ’اولے‘ کے مطابق یہ تاخیر غالباً نام کی مماثلت کی وجہ سے ہوئی، جس کے بعد انہیں ساتھیوں کے پاس جانے کی اجازت ملی۔

عراقی فٹبالر ایمن حسین حراست اور فٹ بال ورلڈ کپ 2026 تنازع
امریکا میں عراقی ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ایمن حسین کو پہنچنے پر 7 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

ٹیم کی دیگر مشکلات

ایمن حسین کی حراست کے علاوہ حکام نے عراقی ٹیم کے فوٹوگرافر کو امریکہ میں داخل ہونے سے ہی روک دیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب عراقی ٹیم 4 دہائیوں کے طویل عرصے بعد کسی بڑے عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے پرعزم ہے اور اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔

ورلڈ کپ میں عراق کا شیڈول

گروپ 9 میں شامل عراق اپنا پہلا میچ 16 جون کو ناروے کے خلاف کھیلے گا۔

اس کے بعد 22 جون کو فرانس اور 26 جون کو سینیگال کا مقابلہ ہوگا۔ ٹیم شیکاگو میں وینزویلا کے خلاف اپنا آخری وارم اپ میچ کھیل کر اپنی مہم کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹس میں کھلاڑیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات نہ صرف کھیلوں کی روح کے منافی ہیں بلکہ میزبان ممالک کی میزبانی پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔