سعودی عرب نے خلائی شعبے میں ایک اور بڑی عالمی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی خلائی کمیٹی کے پہلے نائب صدر کا عہدہ حاصل کرلیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ انتخاب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران عمل میں آیا۔
سعودی اسپیس ایجنسی میں اسپیس سسٹمز اور انفرا اسٹرکچر کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر مریح الشہرانی اس اہم منصب پر فائز ہوں گے۔
انجینئر مریح الشہرانی خلائی گورننس اور قومی صلاحیتوں کی تعمیر میں اپنی مہارت کے باعث عالمی سطح پر ایک معتبر شناخت رکھتے ہیں۔
پہلے نائب صدر کی حیثیت سے سعودی عرب انتظامی دفتر میں قائدانہ فرائض سرانجام دے گا اور رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرے گا۔
اس منصب کا مقصد خلائی گورننس اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
یہ کامیابی عالمی سطح پر سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خلائی شعبے میں اس کی مستحکم پوزیشن کی عکاس ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مملکت خلائی پالیسیوں اور ریگولیٹری ڈھانچے کی تشکیل میں ایک فعال عالمی شراکت دار ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی یہ کمیٹی خلائی گورننس کا سب سے بڑا بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جس میں 110 ممالک شامل ہیں۔ یہ ادارہ خلائی سرگرمیوں کے لیے قانونی ڈھانچہ تیار کرتا ہے تاکہ جدید خلائی ٹیکنالوجی سے پوری دنیا فائدہ اٹھا سکے۔
ثقة دولية تعزز مكانة المملكة المتقدمة في قطاع الفضاء؛ بفوزها بمنصب النائب الأول لرئيس لجنة الأمم المتحدة لاستخدام الفضاء الخارجي في الأغراض السلمية.
— وكالة الفضاء السعودية (@saudispace) June 10, 2026
🔗للمزيد:https://t.co/nrDlQg3OWt#وكالة_الفضاء_السعودية pic.twitter.com/3TKKc8QgkI
سعودی عرب کا یہ نیا کردار خلا کے پرامن و پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کی کوششوں کو مزید تقویت دے گا۔
مملکت اب اقوام متحدہ کے فورم پر رکن ممالک کے درمیان مختلف خلائی امور پر ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد کرے گی۔