اہم خبریں
12 June, 2026
--:--:--

جنوبی ایران میں پانی کی تنصیبات پر امریکی حملے، کیا یہ جنگی جرم ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جنوبی ایران میں پانی کی تنصیبات کی تباہی اور امریکی فضائی حملے کا اثر
جنوبی ایران میں امریکی حملوں سے تباہ پانی کی تنصیب، دیوار پر ’پانی زندگی کی نبض ہے’ تحریر ہے (فوٹو: ایرانی میڈیا)

بدھ کی صبح جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر سیرک کے علاقے پیمانی میں پانی کی 2 بڑی تنصیبات امریکی فضائی حملوں کی زد میں آئیں۔

مزید پڑھیں

اس کارروائی کے نتیجے میں 20 ہزار افراد کی پانی کی فراہمی معطل ہوگئی اور علاقے میں شدید بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار اور کنٹرول اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔ 

تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق ان حملوں میں پینے کے پانی کے 2 ذخائر تباہ ہوئے، جن کی مجموعی گنجائش 25 لاکھ لیٹر تھی۔

بحالی کی کوششیں

پانی کی فراہمی معطل ہونے سے شہر کوہستک اور 10 قریبی دیہات کے 20 ہزار مکین براہ راست متاثر ہوئے۔

ہرمزگان واٹر اینڈ سیوریج کمپنی کے چیف ایگزیکٹو عبد الحمید حمزہ پور کے مطابق ایمرجنسی ٹیموں نے فوری متحرک ہو کر 12 گھنٹوں کے اندر پانی کی فراہمی جزوی طور پر بحال کی۔

حملے کی تکنیکی تصدیق

نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر اور ایرانی ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز کا تجزیہ کیا ہے۔

شواہد کے مطابق اس مقام پر موجود تنصیبات وہی ہیں جو پانی کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ جائے وقوع سے ملنے والے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ حملے میں جی بی یو-39 گائیڈڈ بم استعمال ہوا۔

جنوبی ایران میں پانی کی تنصیبات کی تباہی اور امریکی فضائی حملے کا اثر
تباہ شدہ آبی ذخائر کی ہرمزگان واٹر اینڈ ڈرینج کمپنی کی طرف سے جاری کردہ تصویر (فوٹو: ایرانی میڈیا)

تشویش اور قانونی پہلو

ماہرین کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا ٹیک کے ماہر ماحولیات منوچہر شیرزائی کے مطابق شدید گرمی اور پہلے سے پانی کی قلت کے شکار خطے میں ایسی کارروائی انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکہ نے جان بوجھ کر ان تنصیبات کو نشانہ بنایا یا یہ کوئی انٹیلیجنس غلطی تھی۔ 

تاہم یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازع کے دوران بنیادی ڈھانچے کی تباہی انسانی بنیادی ضروریات کو کس طرح بڑے بحران میں تبدیل کرسکتی ہے۔