بدھ کی صبح جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر سیرک کے علاقے پیمانی میں پانی کی 2 بڑی تنصیبات امریکی فضائی حملوں کی زد میں آئیں۔
مزید پڑھیں
اس کارروائی کے نتیجے میں 20 ہزار افراد کی پانی کی فراہمی معطل ہوگئی اور علاقے میں شدید بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار اور کنٹرول اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔
تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق ان حملوں میں پینے کے پانی کے 2 ذخائر تباہ ہوئے، جن کی مجموعی گنجائش 25 لاکھ لیٹر تھی۔
بحالی کی کوششیں
پانی کی فراہمی معطل ہونے سے شہر کوہستک اور 10 قریبی دیہات کے 20 ہزار مکین براہ راست متاثر ہوئے۔
ہرمزگان واٹر اینڈ سیوریج کمپنی کے چیف ایگزیکٹو عبد الحمید حمزہ پور کے مطابق ایمرجنسی ٹیموں نے فوری متحرک ہو کر 12 گھنٹوں کے اندر پانی کی فراہمی جزوی طور پر بحال کی۔
حملے کی تکنیکی تصدیق
نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر اور ایرانی ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز کا تجزیہ کیا ہے۔
شواہد کے مطابق اس مقام پر موجود تنصیبات وہی ہیں جو پانی کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ جائے وقوع سے ملنے والے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ حملے میں جی بی یو-39 گائیڈڈ بم استعمال ہوا۔
تشویش اور قانونی پہلو
ماہرین کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا ٹیک کے ماہر ماحولیات منوچہر شیرزائی کے مطابق شدید گرمی اور پہلے سے پانی کی قلت کے شکار خطے میں ایسی کارروائی انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکہ نے جان بوجھ کر ان تنصیبات کو نشانہ بنایا یا یہ کوئی انٹیلیجنس غلطی تھی۔
تاہم یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازع کے دوران بنیادی ڈھانچے کی تباہی انسانی بنیادی ضروریات کو کس طرح بڑے بحران میں تبدیل کرسکتی ہے۔