اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

سعودی عرب کی طرف سے لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
( فوٹو: سبق)

سعودی وزارتِ خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس مثبت کردار کو سراہا ہے جو لبنانی صدر جنرل جوزف عون، وزیراعظم نواف سلام اور اسپیکر نبیہ بری نے ادا کیا۔

مزید پڑھیں

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ لبنانی ریاست کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ خودمختاری کو مستحکم کیا جا سکے، اسلحہ صرف ریاستی اداروں کے کنٹرول میں رہے اور اصلاحاتی اقدامات کو فروغ دیا جائے۔ 

سعودی عرب نے لبنان کی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

دوسری طرف آج جمعہ کے روز ہزاروں لبنانی شہری جنوب لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے، جبکہ مرکزی شاہراہیں شدید ٹریفک سے بھر گئیں۔ 

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی جمعرات کی رات 12 بجے نافذ ہوئی، جو 10 دن تک جاری رہے گی۔

عینی شاہدین کے مطابق جنوب کی طرف جانے والی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام دیکھا گیا، اور گاڑیوں میں بستر کے گدے اور ذاتی سامان لدا ہوا تھا۔

کچھ مسافروں نے حزب اللہ سے منسلک پرچم لہرائے، جبکہ دیگر نے فتح کے نشان بلند کیے۔ راستوں کے ساتھ نوجوانوں نے واپس آنے والوں میں مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔

جنوبی ساحلی شہر صیدا میں بھی رات کے وقت جشن منایا گیا، جہاں جنگ بندی کے اعلان کے بعد شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ واپسی اس وقت ہو رہی ہے جب حزب اللہ ’ایران کی حمایت یافتہ‘ اور اسرائیلی فوج کے درمیان 6 ہفتوں سے زائد جاری لڑائی کے بعد یہ صورتحال بنی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے شدید تباہی کا شکار ہوئے۔