اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

پاکستانی ذرائع: امریکا، ایران معاہدہ 60 دن میں متوقع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان کی ثالثی، عاصم منیر کا کلیدی کردار (فوٹو: العربیہ)

خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاکستانی سیکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، کیونکہ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

ادارے کے مطابق دونوں فریقوں نے غیر رسمی سفارتی کوششوں کے ذریعے نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے اور متوقع اجلاس میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

 مکمل معاہدہ آئندہ 60 دنوں کے اندر طے پانے کی توقع ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی نوعیت کے معاہدوں پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ عملی تفصیلات کو بعد میں حتمی شکل دی جائے گی۔

سفارتی ذریعے نے بتایا کہ پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر اس عمل میں مرکزی ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ  تہران میں مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں کئی پیچیدہ امور میں پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے اعلان کیا کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن بحیرۂ عرب میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ان کی افواج مکمل طور پر چوکس اور تیار ہیں۔ 

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں اور افواج ہر وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

b811074f 2b6a 4b73 8c7f
ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے اور وہاں سے داخلے یا اخراج کا کوئی راستہ نہیں (فوٹو: العربیہ)

سینٹکام کے مطابق، آبنائے ہرمز کے گرد امریکی افواج ناکہ بندی کی کارروائیاں کر رہی ہیں، جن میں 12 سے زائد بحری جہاز، 100 سے زیادہ طیارے اور تقریباً 10 ہزار فوجی شامل ہیں۔

اسی دوران، امریکی سینٹرل کمانڈ نے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی تصاویر بھی جاری کیں، جن میں اسے ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی کرتے اور بحیرۂ عرب میں تعینات دکھایا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ کی ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں مختصر رہی ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ تیزی اور آسانی سے آگے بڑھ رہی ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس جنگ کے خواہش مند نہیں تھے، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو وہ خود بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔