گزشتہ 5 دنوں کے دوران عالمی فضائی شعبہ غیر معمولی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں امریکی،اسرائیلی جنگ کے ایران پر اثرات کے باعث طیاروں کے ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
اس کے نتیجے میں سفری ٹکٹوں کی قیمتوں میں بے مثال اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ دنیا بھر کی ایئر لائنز شدید مالی اور آپریشنل دباؤ کا شکار ہیں۔
توقع ہے کہ نئی قیمتیں اپریل کے آغاز سے یعنی صرف 5 دن کے بعد باقاعدہ نافذ ہو جائیں گی۔
مزید پڑھیں
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق طیاروں کے ایندھن کی قیمت جو پہلے 85 سے 90 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی، اچانک بڑھ کر 150 سے 200 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
چونکہ ایندھن فضائی کمپنیوں کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 25 فیصد ہوتا ہے، اس لیے ایئر لائنز نے فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ کر کے اس بوجھ کو کم کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
براہِ راست اضافہ اور اضافی فیسیں
یورپ میں ’ایئر فرانس – کے ایل ایم‘ گروپ نے طویل فاصلے کی پروازوں کے ٹکٹوں میں تقریباً 50 یورو اضافہ کر دیا ہے، جو اپریل سے نئی بکنگز پر لاگو ہوگا جبکہ ’ایزی جیٹ‘ نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کے معاہدے ختم ہونے کے بعد قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
ایشیا میں ’کیتھے پیسیفک‘ اور ’ہانگ کانگ ایئرلائنز‘ نے ایندھن سرچارج میں اضافہ کیا ہے، جو بعض روٹس پر 35 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گیا ہے اور اپریل کو قیمتوں کے بڑے نفاذ کا نقطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا میں ’امریکن ایئرلائنز‘ نے صرف پہلی سہ ماہی میں 400 ملین ڈالر اضافی لاگت کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ ’یونائیٹڈ ایئرلائنز‘ نے غیر منافع بخش پروازیں ختم کرنے اور بتدریج قیمتیں بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، جس کے مکمل اثرات دوسری سہ ماہی میں ظاہر ہوں گے۔
ایشیا پیسیفک میں ’ایئر نیوزی لینڈ‘ نے تمام کلاسز پر کرایوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ بھارتی کمپنیوں ’انڈیگو‘ اور ’اکاسا ایئر‘ نے اضافی ایندھن فیس عائد کر دی ہے۔
’تھائی ایئر ویز‘ نے بھی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ کیا ہے، جس کا وسیع اطلاق اپریل میں ہوگا۔
عرب ایئر لائنز بھی متاثر
عرب ایئر لائنز جیسے امارات ایئرلائن، قطر ایئرویز، اتحاد ایئرویز اور سعودی ایئرلائنز بھی اس بحران سے متاثر ہو رہی ہیں۔
انہیں ایک طرف ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور دوسری طرف فضائی راستوں کی بندش اور تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
کچھ کمپنیوں کو پروازوں کے راستے بدلنے اور دورانیہ بڑھانے پر مجبور ہونا پڑا، جس سے فی نشست لاگت میں اضافہ ہوا اور امکان ہے کہ اپریل سے اس کا بوجھ مسافروں پر منتقل کیا جائے گا۔
پروازوں کی منسوخی اور دباؤ
قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ کئی ایئر لائنز نے اپنی پروازیں کم کرنا شروع کر دی ہیں۔
’ایس اے ایس‘ نے تقریباً ایک ہزار پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دیگر کمپنیاں بھی شیڈول میں تبدیلی یا کمی پر غور کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، کچھ حکومتیں ٹیکس میں کمی یا عارضی امداد دے کر ایئر لائنز کو سہارا دینے پر غور کر رہی ہیں۔
اپریل: سفر کے لیے اہم موڑ
ماہرین کے مطابق آئندہ 5 دن ایک عبوری مرحلہ ہیں، جس کے بعد اپریل میں عالمی سطح پر قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ نافذ ہوگا، خاص طور پر طویل فاصلے کی پروازیں زیادہ مہنگی ہوں گی۔
اگر ایندھن کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں تو عالمی سفری مارکیٹ میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے، جہاں قریبی مقامات کی جانب رجحان بڑھے گا اور مہنگی طویل پروازوں کی طلب کم ہو سکتی ہے۔
یہ فضائی صنعت کی تاریخ کے سب سے غیر مستحکم ادوار میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔