سی بی ایس نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران ایک امریکی پائلٹ کو انتہائی غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مزید پڑھیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق اپریل کے آغاز میں ایرانی فضائی حدود میں اس پائلٹ کا ایف 15 ای لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، جبکہ حیرت انگیز طور پر یہ پائلٹ اس سے چند ہفتے قبل بھی ایک حادثے کا شکار ہوا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ مارچ کے آغاز میں کویت میں 3 امریکی طیارے اپنی ہی اتحادی افواج کی فائرنگ سے تباہ ہوئے تھے، جن میں یہ پائلٹ بھی شامل تھا۔
سعودی وزارت دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ 2 مارچ کو کویتی فضائی دفاعی نظام اور ایک لڑاکا طیارے کی غلط فہمی کے باعث 3 طیارے گرے۔ اس وقت پائلٹ سمیت عملے کے 6 ارکان پیراشوٹ سے بچ نکلے تھے۔
اس پہلے حادثے کے ٹھیک ایک ماہ بعد 3 اپریل کو مذکورہ پائلٹ دوبارہ مشن پر نکلا اور اس بار ایرانی پاسداران انقلاب کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نے اس کے طیارے کو براہ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
اس حملے میں پائلٹ شدید زخمی ہوا جسے کئی گھنٹوں کے سرچ آپریشن کے بعد بچا لیا گیا۔
اس دوران اس کا ساتھی 2 دن تک ایرانی سرزمین پر چھپا رہا، جسے بعد ازاں امریکی فورسز نے ایک پیچیدہ آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکالا۔
امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے اس واقعے کو انتہائی نادر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام جنگ کے بعد ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں جب ایک ہی پائلٹ کے 2 طیارے ایک ہی مہم میں گرے ہوں۔
جنرل ڈیپٹولا نے اس صورتحال کو آسمانی بجلی کے 2 بار گرنے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہ یہ ایک غیر معمولی اتفاق ہے کہ ایک پائلٹ پہلے دوست اور پھر دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بن کر بھی محفوظ رہا۔
واضح رہے کہ تباہ ہونے والا ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے۔ یہ طیارہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر حملے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ہر قسم کے موسم اور رات کے اندھیرے میں بھی کام کرتا ہے۔
قبل ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جدید ترین ایف 35 طیارہ گرایا ہے، تاہم امریکی فوج اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے تصدیق کی کہ گرنے والا طیارہ ایف 15 ای ایگل ہی تھا جو لاکن ہیتھ اسکواڈرن کا حصہ تھا۔