بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ نے سعودی معیشت کی مضبوطی اور استحکام کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت نے علاقائی کشیدگی، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں اور عالمی چیلنجز کے باوجود غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
فنڈ کے مطابق 2025 میں سعودی معیشت نے 4.5 فیصد ترقی کی، جبکہ غیر تیل شعبہ، مضبوط مالیاتی ذخائر، مستحکم بینکاری نظام اور وژن 2030 کی اصلاحات معاشی استحکام کے بنیادی ستون بنے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ کے ماہرین نے 2026 کے آرٹیکل IV مشاورتی اجلاسوں کے اختتام پر سعودی معیشت کی مضبوطی اور موجودہ علاقائی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت کی معیشت مضبوط اقتصادی بنیادوں، وافر مالی ذخائر، متنوع تیل و لاجسٹک انفرااسٹرکچر اور وژن 2030 کے تحت جاری اصلاحات کی بدولت مستحکم ہے۔
آئی ایم ایف کے ماہرین کے مطابق سعودی معیشت نے 2026 کے آغاز میں مضبوط رفتار برقرار رکھی، جبکہ 2025 میں مجموعی قومی پیداوار GDP میں 4.5 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
اس ترقی میں اوپیک پلس کے تحت پیداوار میں کمی کے خاتمے، مضبوط مقامی طلب اور غیر تیل شعبے کی مسلسل کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا۔
اسی دوران لیبر مارکیٹ کے اشاریے مثبت رہے اور مہنگائی کی شرح 2 فیصد سے بھی کم سطح پر آگئی۔
فنڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بحری نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے معیشت پر اثرات مرتب کیے، تاہم سعودی عرب نے ان حالات میں غیر معمولی لچک اور موافقت کا مظاہرہ کیا۔
حکومت نے شپنگ روٹس میں تبدیلی اور لاجسٹک رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہا۔
مزید پڑھیں
آئی ایم ایف نے زور دیا کہ سعودی عرب کے پاس مضبوط مالی تحفظ موجود ہے، جس کی بنیاد کم سرکاری قرض، وافر زرمبادلہ ذخائر، مضبوط مالیاتی حیثیت کے حامل پبلک انویسٹمنٹ فنڈ PIF اور مستحکم بینکاری نظام پر ہے۔
ان عوامل نے مملکت کو بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے اور مالی و معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی۔
بیان میں علاقائی حالات کے معاشی اثرات کو محدود کرنے، سرکاری اخراجات کی ترجیحات کو ازسرِ نو ترتیب دینے اور درمیانی مدت کی مالیاتی پائیداری کی کوششوں کو سراہا گیا، جن سے پائیدار اقتصادی نمو، نجی شعبے کی ترقی اور معاشی تنوع کو فروغ مل رہا ہے۔
آئی ایم ایف: سعودی معیشت مضبوط، نمو اور استحکام برقرار
علاقائی کشیدگی، بحری رکاوٹوں اور عالمی غیر یقینی کے باوجود سعودی عرب مضبوط مالی ذخائر، غیر تیل شعبے اور وژن 2030 اصلاحات کی بدولت مستحکم رہا۔
4.5%
2025 میں GDP نمو
2% سے کم
مہنگائی کی شرح
OPEC+
پیداواری کمی کے خاتمے سے نمو کو سہارا
PIF
سرمایہ کاری اور معاشی تنوع کا اہم ستون
اہم معاشی بنیادیں
🛡️ مضبوط مالی تحفظ
کم سرکاری قرض، وافر زرمبادلہ ذخائر، مضبوط بینکاری نظام اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے معیشت کو بیرونی جھٹکوں کے مقابل مضبوط بنایا۔
🚢 لاجسٹک لچک
بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باوجود حکومت نے شپنگ روٹس اور سپلائی چین کو منظم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔
🏗️ غیر تیل شعبے کی کارکردگی
مقامی طلب، نجی شعبے کی سرگرمیوں اور وژن 2030 اصلاحات نے غیر تیل معیشت کو مسلسل سہارا دیا۔
📊 مالیاتی شعبے کی مضبوطی
بینکاری نظام میں سرمایہ اور لیکویڈیٹی کے ذخائر مستحکم ہیں، جبکہ سعودی مرکزی بینک نگرانی اور احتیاطی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وژن 2030 کے اثرات
آئی ایم ایف کا مرکزی پیغام
سعودی معیشت علاقائی چیلنجز کے باوجود مضبوط بنیادوں، مالی تحفظ، مستحکم بینکاری نظام اور اصلاحاتی رفتار کی بدولت نمو اور استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آئی ایم ایف کے ماہرین نے سعودی مالیاتی شعبے کی مضبوطی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بینکاری نظام میں سرمایہ اور لیکویڈیٹی کے ذخائر مستحکم ہیں اور وہ ممکنہ معاشی جھٹکوں کا سامنا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے سعودی مرکزی بینک کی جانب سے لیکویڈیٹی، قرضوں اور اثاثوں کے معیار کی مسلسل نگرانی اور احتیاطی اقدامات کا بھی خیر مقدم کیا۔
بیان کے مطابق وژن 2030 کے تحت جاری اصلاحات نے گزشتہ برسوں میں حکمرانی، پالیسی سازی، اقتصادی لچک اور معاشی تنوع کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے، جس کے مثبت اثرات غیر تیل شعبے کی کارکردگی پر بھی دیکھے گئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے ان اصلاحات کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نجی شعبے کا کردار مزید مضبوط ہو اور درمیانی مدت میں ترقی کے امکانات مستحکم رہیں۔
فنڈ نے 2026 تا 2030 کے لیے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی نئی حکمتِ عملی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سرمایہ کاری کی مؤثر تقسیم، نجی شعبے کی مزید شمولیت، کاروباری ماحول میں بہتری، سرمایہ مارکیٹوں کی گہرائی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ آرٹیکل IV مشاورت آئی ایم ایف کے رکن ممالک کی اقتصادی صورتحال کا باقاعدہ جائزہ لینے کا عمل ہے، جس کے تحت ماہرین اقتصادی پیش رفت، پالیسیوں اور مستقبل کے امکانات کا تجزیہ کرتے ہیں۔