سعودی عرب کی غیر تیل برآمدات، بشمول ری ایکسپورٹ، 2025 میں 18.9 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ کل تجارتی برآمدات 1.17 ٹریلین ریال تک پہنچ گئیں۔
دوسری جانب درآمدات میں 8.8 فیصد اضافے کے باعث تجارتی سرپلس 220.2 ارب ریال تک محدود ہو گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 19.2 فیصد کم ہے۔
2025 میں سعودی عرب کی غیر تیل برآمدات، بشمول ری ایکسپورٹ، 2024 کے مقابلے میں 18.9 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ ری ایکسپورٹ کو چھوڑ کر قومی غیر تیل برآمدات میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی دوران مجموعی تجارتی برآمدات 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.17 ٹریلین ریال تک پہنچ گئیں، جبکہ تیل کی برآمدات میں 4 فیصد کمی آئی۔
سال 2025 کی بین الاقوامی تجارتی اشیاء کی رپورٹ کے مطابق درآمدات 8.8 فیصد بڑھ کر 949.8 ارب ریال تک پہنچ گئیں، جبکہ تجارتی سرپلس ’فاضل تجارتی توازن‘ 19.2 فیصد کم ہو کر 220.2 ارب ریال رہ گیا، جو 2024 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
Non-Oil Exports Rise 18.9% in 2025
Saudi Arabia’s merchandise exports reached SAR 1.17 trillion, while imports rose to SAR 949.8 billion.
+18.9%
Non-oil exports, including re-exports
SAR 1.17T
Total merchandise exports
-4.0%
Oil exports declined year-on-year
SAR 949.8B
Total imports in 2025
Trade Balance Snapshot
Trade Surplus
SAR 220.2 billion, down 19.2% compared with 2024.
Oil Share Falls
Oil exports fell from 73.1% to 68.7% of total exports.
Re-Exports Surge
Re-exported goods jumped by 64.4% during 2025.
Top Export Drivers
Chemical products — 22.5% of non-oil exports
Machinery and electrical equipment — 22.4% of non-oil exports
China — 14.6% of total Saudi exports
Top export destinations: China, UAE, India, South Korea, Japan, United States, Egypt, Bahrain, Poland and Malta.
Main Import Categories
Machinery and electrical equipment — 29.0% of total imports
Transport equipment and parts — 13.6% of total imports
China — 27.5% of total Saudi imports
Top import partners: China, United States, UAE, India, Germany, Japan, Italy, France, Switzerland and Egypt.
Key Trade Gateways
King Abdulaziz Port, Dammam — 26.6% of imports
Jeddah Islamic Port — 22.1% of imports
King Abdulaziz International Airport, Jeddah — 14.2% of non-oil exports
Five main entry points handled 78.2% of Saudi merchandise imports in 2025.
Why It Matters
Non-oil exports are gaining weight in trade activity.
Re-exports became a major source of momentum.
China remains the top trade partner for exports and imports.
Major ports and airports remain central to trade flows.
رپورٹ کے مطابق مجموعی برآمدات میں تیل برآمدات کا حصہ 2024 میں 73.1 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 68.7 فیصد رہ گیا۔
مزید پڑھیں
آج اتوار کے روز سعودی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال ری ایکسپورٹ شدہ اشیاء کی مالیت میں 64.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مشینری، برقی آلات اور ان کے پرزہ جات کی ری ایکسپورٹ میں 99.8 فیصد اضافہ تھا۔
یہ شعبہ مجموعی ری ایکسپورٹ کا نصف سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔
2025 میں غیر تیل برآمدات ’بشمول ری ایکسپورٹ‘ کا درآمدات کے
مقابلے میں تناسب بڑھ کر 38.5 فیصد ہو گیا، جبکہ 2024 میں یہ 35.3 فیصد تھا۔
غیر تیل برآمدات میں کیمیائی مصنوعات سرفہرست رہیں، جن کا حصہ 22.5 فیصد تھا اور ان میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے بعد مشینری، برقی آلات اور ان کے پرزہ جات کا نمبر رہا، جو غیر تیل برآمدات کا 22.4 فیصد بنتے ہیں اور ان میں گزشتہ سال 91.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب درآمدات میں مشینری، برقی آلات اور ان کے پرزہ جات سب سے اہم درآمدی اشیاء رہیں، جن کا حصہ مجموعی درآمدات میں 29 فیصد تھا اور ان کی مالیت میں 24.6 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے بعد نقل و حمل کے آلات اور ان کے پرزہ جات رہے، جن کا حصہ 13.6 فیصد تھا اور ان میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا۔
چین 2025 میں سعودی عرب کی برآمدات کی سب سے بڑی منزل رہا، جس نے مجموعی برآمدات کا 14.6 فیصد حصہ حاصل کیا۔
اس کے بعد متحدہ عرب امارات ’10 فیصد‘ اور بھارت ’9.4 فیصد‘ رہے جبکہ جنوبی کوریا، جاپان، امریکا، مصر، بحرین، پولینڈ اور مالٹا بھی سعودی برآمدات کی دس بڑی منڈیوں میں شامل رہے۔
ان 10 ممالک کو مجموعی طور پر سعودی برآمدات کا 66.8 فیصد حصہ گیا۔
درآمدات کے حوالے سے بھی چین پہلے نمبر پر رہا، جس کا حصہ 27.5 فیصد تھا۔
اس کے بعد امریکا ’8.2 فیصد‘ اور متحدہ عرب امارات ’5.7 فیصد‘ رہے جبکہ بھارت، جرمنی، جاپان، اٹلی، فرانس، سوئٹزرلینڈ اور مصر بھی سعودی عرب کے 10 بڑے درآمدی شراکت داروں میں شامل تھے۔
ان 10 ممالک سے آنے والی درآمدات مجموعی درآمدات کا 65.9 فیصد بنتی ہیں۔
کنگ عبدالعزیز بندرگاہ، دمام گزشتہ سال سعودی عرب میں درآمدات کا سب سے بڑا دروازہ رہی، جہاں سے 26.6 فیصد سامان ملک میں داخل ہوا۔
اس کے بعد جدہ اسلامی بندرگاہ ’22.1 فیصد‘، کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ریاض ’13.8 فیصد‘، کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جدہ ’10.4 فیصد‘ اور کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام ’5.4 فیصد‘ رہے۔
ان 5 داخلی راستوں سے مجموعی درآمدات کا 78.2 فیصد سامان ملک میں آیا۔
دوسری جانب 2025 میں غیر تیل برآمدات کے لیے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جدہ سب سے اہم برآمدی مرکز رہا، جہاں سے مجموعی غیر تیل برآمدات کا 14.2 فیصد روانہ ہوا۔
اس کے بعد جدہ اسلامی بندرگاہ (11.7 فیصد)، کنگ فہد صنعتی بندرگاہ، الجبیل (11.1 فیصد)، کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ریاض (10.6 فیصد) اور الجبیل بندرگاہ (7.9 فیصد) رہے۔
ان 5 مراکز نے مجموعی غیر تیل برآمدات کا 55.4 فیصد حصہ سنبھالا۔