عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے سعودی عرب کی کریڈٹ ریٹنگ Aa3 سطح پر برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کا منظرنامہ مستحکم قرار دیا ہے۔
ایجنسی نے سعودی معیشت کی مضبوطی، وژن 2030 کے اثرات، نان آئل شعبوں کی ترقی، حکومتی اصلاحات اور علاقائی کشیدگی سے نمٹنے کی معاشی صلاحیت کو اہم عوامل قرار دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب کی وسیع معاشی اور سماجی اصلاحات آنے والے برسوں میں اقتصادی تنوع کے عمل کو مزید تیز کریں گی۔
ان اصلاحات نے خدمات کے شعبے، غیر تیل معیشت اور نجی سرمایہ کاری کو نئی رفتار دی ہے، جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
موڈیز نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ علاقائی کشیدگی میں کمی آنے کے بعد سعودی عرب کے غیر تیل نجی شعبے کی شرح نمو دوبارہ 4 سے 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو خلیجی ممالک کے مقابلے میں بلند ترین شرحوں میں شامل ہوگی۔
ایجنسی کے مطابق حکومتی سرمایہ کاری، نجی شعبے کے بڑھتے کردار اور اقتصادی اصلاحات کی رفتار اس ترقی کو مزید مستحکم بنائے گی۔
ماہرین کے مطابق موڈیز کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ برقرار رکھنا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے مثبت اشارہ ہے، جو مملکت کے مالیاتی استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور وژن 2030 کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔