برطانوی تحقیقی ادارے آکسفورڈ اکنامکس کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے روانہ ہونے والی تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ پروازیں رواں برس جنگی کشیدگی کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ صورتحال امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا نتیجہ ہے۔
ادارے کی گلوبل فورکاسٹنگ ڈائریکٹر ہیلن میکڈرموٹ اور چیف اکانومسٹ جیسی سمتھ نے خبردار کیا ہے کہ فضائی سفر میں جاری یہ خلل مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس صورت حال کے گہرے معاشی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں جو عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو متاثر کر رہے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
رپورٹ کے مطابق اس بحران میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ یورپ ہے، جہاں کل متاثرہ پروازوں کا 60 فیصد حصہ جاتا ہے۔
خاص طور پر ترکی، فرانس اور برطانیہ کو زیادہ خطرات کا سامنا ہے کیونکہ یہ ممالک مشرق وسطیٰ سے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات کے پیش نظر سیاحتی رجحانات میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
مسافر اب بین الاقوامی سفر کے بجائے مقامی اور محفوظ مقامات کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ سے یورپ جانے والی پروازوں کی مانگ میں نمایاں کمی متوقع ہے۔