کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف ایک راستہ ہے جس کے ذریعے خلیج کے تیل اور گیس کے کنوؤں سے توانائی ایشیا اور یورپ تک پہنچائی جاتی ہے مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ حساس ہے کیونکہ اس کا تعلق خوراک کی ترسیل اور غذائی سپلائی چین سے بھی ہے۔
اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس یو این سی ٹی اے ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جس سے یہ عالمی معیشت کے اہم ترین اور حساس سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
تاہم اس کی اہمیت صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہی راستہ بنیادی اشیائے ضروریہ، خاص طور پر خوراک، کی ترسیل میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
صرف توانائی کا راستہ نہیں
امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’صرف توانائی کا راستہ نہیں‘ بلکہ اگر یہاں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر غذائی سپلائی پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک میں جو خوراک کے لیے بڑے پیمانے پر درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
اسی طرح امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے تجزیے کے مطابق خلیجی ممالک اپنی خوراک کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر درآمدات اسی حساس سمندری راستے سے گزرتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جہاز رانی میں خلل پڑتا ہے تو یہ صرف لاجسٹک یا توانائی کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ براہِ راست غذائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
مارکیٹ ڈیٹا بھی اس تصویر کی تائید کرتا ہے۔
اجناس کی نقل و حمل پر نظر رکھنے والی کمپنی کپلر کے اندازوں کے مطابق خلیجی ممالک کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم اور دیگر اناج کی بڑی مقدار جو تقریباً 3 کروڑ ٹن بنتی ہے آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی منتقل ہوتی ہے۔
کیا اس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی؟
آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر صرف توانائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خوراک سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں اور اقتصادی رپورٹس کے مطابق جب جہاز رانی کے خطرات بڑھتے ہیں تو انشورنس اور شپنگ کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر درآمدی اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
اقتصادی پلیٹ فارمز، جن میں إنتربرايز بھی شامل ہے، کے تجزیوں کے مطابق اگر جہازرانی کی رفتار میں معمولی سی کمی بھی آ جائے تو دو عوامل بیک وقت قیمتیں بڑھا سکتے ہیں:
- شپنگ کے اخراجات میں اضافہ
- سپلائی کی ترسیل میں تاخیر
رپورٹس کے مطابق خطے میں خوراک کی تقریباً 70 فیصد درآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ اس قسم کے جھٹکوں کے لیے زیادہ حساس ہو جاتی ہے۔
سعودی عرب نے کیا تیاری کی؟
اگرچہ آبنائے ہرمز انتہائی اہم ہے لیکن خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، مکمل طور پر اس پر انحصار نہیں کرتے۔
گزشتہ چند برسوں میں سپلائی کے راستوں کو متنوع بنانے، بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کو فعال کرنے اور لاجسٹک نظام کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری نے ایک ہی سمندری راستے پر انحصار کو کم کیا ہے، جس سے سعودی مارکیٹ کو عارضی بحرانوں کا مقابلہ کرنے میں بہتر لچک حاصل ہوئی ہے۔
یہی بات کورونا وبا اور روس، یوکرین جنگ جیسے بحرانوں کے دوران بھی واضح طور پر نظر آئی۔